ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 84

نے یہی جواب دیا کہ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ (العنکبوت:۵۱) انبیاؤں کا کام بازیگروں کی طرح چٹے بٹے دکھانا نہیں ہوتا وہ تو خدا کے پیغام رساں ہوتے ہیں۔علمی بحث الگ ہے اور الہامی بحث الگ ہے۔مختصر فیصلہ یہی ہے کہ اگر قول میں تعارض ہے تو فعل خود فیصلہ کر دے گا۔ایک مفتری تحصیلدار گورنمنٹ سے عزت نہیں پا سکتا اور گرفتار کیا جاتا ہے تو مفتری علی اللہ کیسے اس کا محبوب ہو سکتا ہے اور وہ کب اس کی تائید کر سکتا ہے۔اگر سچے کی عزت بھی ویسی ہو جیسے کہ جھوٹے کی تو پھر دنیا سے امان اُٹھ جاوے گا۔پس یاد رکھو کہ قول کے اشتباہ فعل سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔میرے ساتھ جو وعدے خدا کے ہیں وہ۲۵،۳۰ سال پیشتر براہین میں درج ہو چکے ہیں اور بہت سے پورے ہوگئے ہیں۔جو باقی ہیں چاہو تو ان کا انتظار کرو۔الہام میں دخلِ شیطانی بھی ہوتا ہے جیسے کہ قرآن شریف سے بھی ظاہر ہے مگر جو شخص شیطان کے اثر کے نیچے ہو اسے نصرت نہیں ملا کرتی نصرت اسے ہی ملا کرتی ہے جو رحمان کے زیر سایہ ہو۔ہم اپنی زبان سے کسی کو مفتری نہیں کہتے۔جبکہ وحی شیطانی بھی ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ کسی سادہ لوح کو دھوکا لگا ہو۔اس لیے ہم فعل الٰہی کی سند پیش کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ پیش کی تھی اور خدا تعالیٰ نے فعل پر بہت مدار رکھا ہے۔وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (الـحاقّۃ:۴۵،۴۶) میں فعل ہی کا ذکر ہے۔پس جبکہ یہ مسنون طریق ہے تو اس سے کیوں گریز ہے۔ہم لوگوں کے سامنے ہیں اور اگر فریب سے کام کر رہے ہیں تو خدا تعالیٰ ایسے عذاب سے ہلاک کرے گا کہ لوگوں کو عبرت ہوجاوے گی اور اگر یہ خدا کی طرف سے ہے اور ضرور خدا کی طرف سے ہے تو پھر دوسرے لوگ ہلاک ہوجاویں گے۔۱ ۱۹؍فروری ۱۹۰۵ء (بعد نماز مغرب) آج کا دن اپنی شان میں ایک مبارک دن تھا کیونکہ غالباً سات ماہ کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود