ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 81

مذکورہ بالا تقریر فرما کر حضرت اقدس تشریف لے گئے مگر پھر بہت جلد تشریف لائے اور فرمایا کہ عصر کا وقت ہوگیا ہے۔اذان دے دی جاوے۔خاں صاحب شادی خاں اذان دینے گئے اور حضور علیہ السلام نے مجلس فرمائی۔سچے الہام کی علامات چونکہ اس وقت اہل اسلام میں سے بھی بعض مخالف اور منکر حضرت مسیح موعود الہام کے مدعی ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کو حضرت مرزا صاحب کے کاذب اور دجال ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ سے وحی ہوئی ہے اور ادھر بعض مذاہب غیر از اسلام میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو کہ اپنے مذہب کی تصدیق کے بذریعہ الہام مدعی ہیں اس لیے ایسے دعاوی کے جواب میں حضور علیہ السلام نے ایک لطیف تقریر فرمائی جو کہ بہت ہی غور اور توجہ کے قابل ہے۔ہر ایک شخص اپنی حالت کے لحاظ سے معذور ہوتا ہے اس لیے ان میں فیصلہ کا ایک موٹا طریق ہے جسے ہم پیش کرتے ہیں۔اس وقت مختلف اقوام جن کا اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے الہام کے مدعی ہیں دس سال کا عرصہ گذرا کہ ایک دفعہ امرتسر سے ایک سکھ کا خط آیا کہ مذہب سکھ کے سچا ہونے کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے۔اور ایسے ہی ایک انگریز نے الٰہ آباد سے لکھا کہ مجھے عیسویت کے سچا ہونے کی نسبت الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی گئی ہے۔اور ایک مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جن کو میں نیک جانتا ہوں ان کی اولاد امرتسر میں ہے۔ان کو بھی دعویٰ الہام کا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے اور مرزا صاحب کا ذب اور دجال ہیں۔پھر ادھر ہماری جماعت میں بھی ہزار ہا ایسے آدمی ہیں جن کو الہام اور رؤیا کے ذریعہ سے یہ اطلاع ملی ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان مبارک سے تصدیق کی ہے کہ یہ سلسلہ منجانب اللہ ہے اور یہی ذریعہ ان کی بیعت کا ہوا ہے تو اب ان مختلف اقسام کے الہاموںمیں جلدی سے فیصلہ تجویز کرنا تقویٰ سے بعید ہے۔اس لیے میں جلدی کو پسند نہیں کرتا۔انسان کو چاہیے کہ صبر اور دعا سے کام لے اور تقویٰ کے پہلو کو ہاتھ سے نہ چھوڑے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا (النحل:۱۲۹)۔