ملفوظات (جلد 7) — Page 73
ایڈیٹر البدر نے ایک خاکروب کاتب کی درخواست پیش کی کہ اس کا مذہب بھی خاکروبوں کا ہی ہے مگر فن کتابت سے واقف ہے اور کار خانہ البدر میں آنا چاہتا ہے چونکہ میری طبیعت کراہت کرتی ہے اس لیے حضور سے مشورتاً پوچھتا ہوں۔آپ نے تبسم فرما کر فرمایا کہ بات تو واقعی مکروہ معلوم ہوتی ہے۔۳ ۶؍جنوری ۱۹۰۵ء اپنے محبین کی صحت یابی کے لیے کثرت سے دعا فرمانا حضرت حکیم نور الدین صاحب کی طبیعت بہت علیل رہی چنانچہ اسی وجہ سے آپ کو درسِ قرآن ملتوی رکھنا پڑا۔حکیم صاحب کی طبیعت کی ناسازی دیکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام نے آپ کی صحت کے لیے کثرت سے دعا شروع کی تو ۶؍جنوری کو آپ نے تشریف لا کر فرمایا کہ میں دعا کر رہا تھا کہ یہ الہام ہوا اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِشِفَآءٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۔یہ الہام ایک بار حضور کو اوّل بھی ہوا تھا۔۱ ۱۴؍جنوری ۱۹۰۵ء (بوقتِ عصر) استخارہ مسنونہ کی تلقین محبی قاضی غلام حسین صاحب ویٹرینری اسسٹنٹ حصار نے عرض کی کہ میری تنخواہ میں روپے اضافہ ہوا ہے اور بنگال سے ایک درخواست آئی ہےکہ انسپکٹری کی پوسٹ خالی ہے۔روپیہ ماہوار ملیں گے۔اس لیے مشورۃً استفسار ہے کہ کونسی جگہ منظور کی جاوے۔آپؑنے فرمایا کہ استخارہ مسنونہ کے بعد جس طرف طبیعت کا میلان ہو وہ منظور کر لو۔۲