ملفوظات (جلد 7) — Page 48
قبض سے بیمار ہے تو تربد یاکسٹرائل جب اس کو دیا جاوے گا تو اسے اسہال آجاویں گے اور قبض کھل جائے گی۔کیا یہ اس امر کا بیّن ثبوت نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیرات رکھی ہوئی ہیں۔اسی طرح پر اور تدابیر کرنے والے ہیں۔مثلاً زراعت کرنے والے اور یہی معالجات کرنے والے وہ خوب جانتے ہیں کہ ان تدابیر کی وجہ سے انہوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور اشیاء میں مختلف اثر دیکھے ہیں۔پھر جبکہ ان چیزوں میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دعاؤں میں جو وہ بھی مخفی اسباب اور تدابیر ہیں اثر نہ ہوں؟ اثر ہیں اور ضرور ہیں۔لیکن تھوڑے لوگ ہیں جو ان تاثیرات سے واقف اور آشنا ہیں اس لیے انکار کر بیٹھتے ہیں۔آداب دعا میں یقیناً جانتا ہوں کہ چونکہ بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہیں جو اس نقطہ سے جہاں دعا اثر کرتی ہے دور رہ جاتے ہیں اور وہ تھک کر دعا چھوڑ دیتے ہیں اور خود ہی یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ دعاؤں میں کوئی اثر نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ تو ان کی اپنی غلطی اور کمزوری ہے۔جب تک کافی وزن نہ ہو خواہ زہر ہو یا تریاق اس کا اثر نہیں ہوتا۔کسی کو بھوک لگی ہوئی ہو اور وہ چاہے کہ ایک دانہ سے پیٹ بھرلے یا تولہ بھر غذا کھا لے تو کیا ہو سکتا ہے کہ وہ سیر ہو جاوے؟ کبھی نہیں۔اسی طرح جس کو پیاس لگی ہوئی ہے ایک قطرہ پانی سے اس کی پیاس کب بجھ سکتی ہے؟ بلکہ سیر ہونے کے لیے چاہیے کہ وہ کافی غذا کھاوے اور پیاس بجھانے کے واسطے لازم ہے کہ کافی پانی پیوے۔تب جاکر اس کی تسلّی ہو سکتی ہے۔اسی طرح پر دعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہیے اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہیے جب تک دعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔جو لوگ تھک جاتے اور گھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشانی ہے۔میرے