ملفوظات (جلد 7) — Page 43
زمانہ ہے جبکہ نفسِ امّارہ ساتھ ہوتا ہے اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے۔یہی زمانہ ہے جو مؤاخذہ کا زمانہ ہے اور خاتمہ بالخیر کے لیے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنا دے گا۔ہاں اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہوجاوے کیونکہ ابتدائی زمانہ تو بےخبری اور غفلت کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ اس کا مؤاخذہ نہ کرے گا۔جیسا کہ خود اس نے فرمایا لَايُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا(البقرۃ:۲۸۷) اور آخری زمانہ میں گو بڑھاپے کی وجہ سے سستی اور کاہلی ہوگی لیکن فرشتے اس وقت اس کے اعمال میں وہی لکھیں گے جو جوانی کے جذبات اور خیالات ہیں۔جوانی میں اگر نیکیوں کی طرف مستعد اور خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اس کے احکام کی تعمیل کرنے والا اور نواہی سے بچنے والا ہے تو بڑھاپے میں گو ان اعمال کی بجا آوری میں کسی قدر سستی بھی ہو جاوے لیکن اللہ تعالیٰ اسے معذور سمجھ کر ویسا ہی اجر دیتا ہے۔۱ ہر شخص بڈھے انسان کو دیکھتا کہ وہ کیسا از خود رفتگی کا زمانہ ہے۔۲کوئی بات چشم دید کی