ملفوظات (جلد 7) — Page 42
اورمقصد ہے؟ یہ زمانہ تو یوں گذر گیا۔اس کے بعد جوانی کا زمانہ آتا ہے کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں اس کے معلومات بڑھتے ہیں اور اس کی خواہشوں کا حلقہ وسیع ہوتا ہے، مگر جوانی کی مستی اور نفسِ امّارہ کے جذبات عقل مار دیتے ہیں اور ایسے مشکلات میں پھنس جاتا ہے اور ایسے ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ اگر ایمان بھی لاتا ہے تب بھی نفسِ امّارہ اور اس کے جذبات اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اسے ایمان اور اس کی ثمرات سے دور پھینک دینے کے لیے حملے کرتے ہیں۔اس کے بعد جو پیرانہ سالی کا زمانہ ہے وہ تو بجائے خود ایسا نکمّا اور ردّی ہوتاہے جیسے کسی چیز سے عرق نکال لیا جاوے اور اس کا پھوک باقی رہ جاوے۔اسی طرح پر انسانی عمر کا پھوک بڑھاپا ہے۔انسان اس وقت نہ دنیا کے لائق رہتا ہے اور نہ دین کے۔مخبوط الحواس اور مضمحل سا ہو کر اوقات بسر کرتا ہے۔قویٰ میں وہ تیزی اور حرکت نہیں ہوتی جو جوانی میں ہوتی ہے اور بچپن کے زمانہ سے بھی گیا گذرا ہوجاتا ہے۔بچپن میں اگرچہ شوخی، حرکت اور نشو و نما ہوتا ہے لیکن بڑھاپے میں یہ باتیں نہیں۔نشو و نما کی بجائے اب قویٰ میں تحلیل ہوتی ہے اور کمزوری کی وجہ سے سستی اور کاہلی پیدا ہونے لگتی ہے۔بچہ اگرچہ نماز اور اس کے مراتب اور ثمرات اور فوائد سے ناواقف ہوگا یا ہوتا ہے لیکن اپنے کسی عزیز کو دیکھ کر رِیس اور امنگ ہی پیدا ہوجاتی ہے مگر اس پیرانہ سالی کے زمانہ میں تو اس کے بھی قابل نہیں رہتا۔۱ حواسِ باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آجاتا ہے حواس ظاہری میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہوجاتا ہے بعض اندھے ہوجاتے ہیں، بہرہ ہوجاتے ہیں، چلنے پھرنے سے عاری ہوجاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض یہ زمانہ بھی بڑا ہی ردّی زمانہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانہ ہے جو ان دونوں کے بیچ کا زمانہ ہے یعنی شباب کا جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے۔کیونکہ اس وقت قویٰ میں نشو و نما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں لیکن یہی