ملفوظات (جلد 7) — Page 37
احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو مار دینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی۔بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے۔کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔نوٹ۱۔یاد رکھنا چاہیے کہ اشد ضرورتوں کےلیے نازک مواقع پر یہ حکم ہے یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھ کر نماز کی پرواہ نہ کی جاوے اور اسے بازیچہ طفلاں بنا دیا جاوے ورنہ نماز میں اشغال کی سخت ممانعت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک دل اور نیت کو بخوبی جانتا ہے۔۲ بلاتاریخ غیر احمدی امام کے پیچھے نماز بیرونجات کے احباب کے خطوط آنے پر یہ مسئلہ دوبارہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب علیہ الرحمۃ نے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا جس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ میرا مذہب تو وہی ہے کہ کسی غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھی جاوے حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نہ پڑھے۔بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی۔اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا اور گھر میں تنہا پڑھتے رہے۔یہ چار مصلّے جو اب ہیں یہ تو پیچھے بنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہرگز نہ تھے اس وقت ایک ہی مصلّٰی تھا۔اور اب بھی جب تک چاروں اٹھ کر ایک ہی مصلّٰی نہ ہو گا تب تک وہاں توحید اور راستی ہرگز نہ پھیلے گی۔۳