ملفوظات (جلد 7) — Page 33
ہستی باری پر شبہات پیدا ہوگئے ہیں یہ اپنی اصلاح کی تدبیر دریافت کرتے ہیں۔فرمایا۔دل کی بے قراری کو اللہ تعالیٰ دور کرے۔دیکھو اگر کسی شخص کے سامنے دو بچے ہوں ایک تو کسی اجنبی کا ہو اور دوسرا اس کا اپنا پیارا۔تو کیا وہ اس اجنبی بچہ کی خاطر اپنے بچہ سے محبت چھوڑ دے گا۔نہیں بلکہ ہرگز نہیں۔پس جب انسان مسلمان کہلاتا ہے جس کے معنے ہیں بالکل خدا کا ہوجانا اور کسی حالت میں اس سے بے وفائی نہ کرنا۔پھر اولاد کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ(التغابن:۱۶)۔فَاحْذَرُوْهُمْ(التغابن:۱۵) کہ مال اور اولاد تمہاری دشمن ہیں۔ان سے ڈرتے رہو۔کیونکہ اگر زندہ رہے تو ممکن ہے کہ نافرمان ہو، مرتد ہوجاوے، بدکار ہو، چور یا ڈاکو بن جاوے، مر جاوے تو پھر ویسے ابتلا آجاتا ہے۔پس ہر حالت میں موجب فتنہ اور ابتلا ہوتی ہے مگر جب مومن کو خدا سے تعلق ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتا (ہے) کہ اگر یہ بچہ مرگیا ہے تو کیا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا (البقرۃ:۱۰۷)۔دیکھو! آنحضرتؐکے ۱۲ بچے فوت ہوئے۔ایمان تو وہ ہوتا ہے جس میں لغزش نہ ہو اور ایسے ایمان والا خدا کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ہاں اگر بچہ خدا سے زیادہ محبوب ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا شخص خدا پر ایمان کا دعویٰ کر سکے؟ اور وہ کیوں ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ہم نہیں جان سکتے کہ ہماری اولادیں کیسی ہوں گی۔صالح ہوں گی یا بد معاش؟ اور نہ ان کے ہم پر کوئی احسان ہیں اور خدا کے تو ہم پر لاکھوں لاکھ احسان ہیں۔پس سخت ظالم ہے وہ شخص کہ اس خدا سے تعلق توڑ کر اولاد کی طرف تعلق لگاتا ہے۔ہاں خدا کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔اگر خدا پر تمہارا کامل ایمان ہو تو پھر تو تمہارا یہ مذہب ہونا چاہیے کہ ع ہر چہ از دوست می رسد نیکوست اور اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا۔وہ بھی تو وہاں ہی آجاتا ہے جہاں اس کو تھوڑی سی بھی گنجائش مل جاتی ہے۔جب خدا کو مقدم رکھا جائے تو برکات کا نزول ہوتا ہے۔ہر کسی