ملفوظات (جلد 7) — Page 32
بعض ایسے نظر آتے ہیں کہ عنقریب عبد اللطیف بننے والے ہیں۔‘‘۱ ۵؍نومبر ۱۹۰۴ء (بمقام قادیان۔بوقتِ مغرب) طاعون کی شدت طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ کسوف اور خسوف کے ساتھ ہی قرآن شریف میں اَيْنَ الْمَفَرُّ (القیامۃ:۱۱) آیا ہے جس سے یہی مراد ہے کہ طاعون اس کثرت سے ہوگی کہ کوئی جگہ پناہ کی نہ رہے گی۔میرے الہام عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَ مُقَامُھَا کے یہی معنے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود باعث ابتلا ثابت ہوا ہے حضرت مسیح موعود۲ علیہ السلام کے وجود کی نسبت فرمایا کہ ان کا وجود دنیا کے لیے ابتلا ہی ثابت ہوا ہے۔یعنی ابتلا اور حضرت مسیح موعود۳ علیہ السلام کے وجود کا گہرا تعلق ہے کیونکہ جو منکر ہوئے وہ بھی دوزخی بنے اور جو ان پر ایماندار ہیں وہ بھی دوزخ کے کُندے ہیں جیسے کہ عیسائیوں کے عقائد اور عملی حالت سے واضح ہے۔پھر مسلمان بھی ان پر ایمان رکھتے تھے وہ بھی غلو کر کے اور آسمان پر بٹھا کر مغضوب ہوئے۔پس صرف مسیح کا وجود ہی اس قسم کا ہے کہ جس کا دوست بھی جہنم میں اور دشمن بھی جہنم میں۔اس قسم کا ابتلا کسی اور نبی کے وجود کے ساتھ نہیں ہے۔۴ ۱۱؍نومبر ۱۹۰۴ء ایک شخص کی طرف سے رقعہ پیش کیا گیا کہ یہ مولوی صاحب ہیں اور ان کا لڑکا فوت ہوگیا ہے۔ان کو