ملفوظات (جلد 7) — Page 355
۱۶۸ وہ فلسفی جو رونے والے ستون کا منکر ہے، وہ انبیاء کی باطنی حسوں سے بیخبر ہے۔۱۸۶ جو مرضی ہو جائے۔۱۸۹ بیمار دانتوں کا علاج دانت نکلوانا ہی ہے۔۱۹۰ تنور والی رات بھی گذر گئی اور سمور والی رات بھی گزر گئی۔۲۰۱ دوستوں کی موت بھی ایک جشن رکھتی ہے۔۲۱۵ وہ تو خود گمراہ ہے کسی اورکی کیا رہنمائی کرے گا۔۲۳۸ دنیا کے کام کبھی کوئی پورے نہیں کر سکتا۔۲۴۸ اگر تیرا خدا سے تعلق ہے تو پھر تجھے کاہے کا غم۔۲۴۹ ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقدر کی ہے، اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپا رکھا ہے۔۲۵۰ خدا کے حلم سے دھوکہ میں نہ رہو وہ دیر سے پکڑتا ہے مگر سخت پکڑتا ہے۔۲۶۰ جب عمر کا معاملہ پوشیدہ ہے تو بہتر ہے کہ ہم موت کے آنے کے دن محبوب سامنے نہ ہوں۔۲۶۴ یہ دنیا کا جنگل درندوں اور پھندوں سے خالی نہیں بارگاہ الٰہی کی تنہائی کے سوا کہیں امن نہیں۔۲۸۰ کہتے ہیں صبر کرنے (یعنی لمبا عرصہ گزرنے )سے پتھر لعل بن جاتا ہے ہاں بن جاتا ہے لیکن خون جگر پی کر۔۲۸۰ اگرچہ اس کا وصال کوشش سے حاصل نہیں ہو سکتا پھر بھی اے دل! جہاں تک تجھ سے ہو سکے کوشش کر لے۔۲۸۵ عقیدت کے ساتھ جاناآسان ہے لیکن عقیدت کے ساتھ واپس آنا مشکل ہے۔۲۸۷ بیت المقدس کی طرح ان کا اندرونہ روشن ہے مگر باہر کی دیوار خراب ہے۔