ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 350

سلام کہا ہے۔وہی مسیح موعود ہوں جو چودھویں صدی میں آنے والا تھا اور جو مہدی بھی ہے۔مجھے وہی قبول کرتا ہے جس کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے دیکھنے والی آنکھ عطا کرتا ہے اور یہ جماعت اب دن بدن بڑھ رہی ہے۔خدا چاہتا ہے کہ یہ بڑھے پس یہ بڑھے گی۔اور ضرور بڑھے گی۔۱ بلا تاریخ۲ حجۃ اللہ کا مقام جب انسان حجۃ اللہ کے مقام پر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی اس کے جوارح ہو جاتا ہے۔مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (النجم:۴) کے یہی معنے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار اور اس کا وفادار بندہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اسے کامل صلح ہوتی ہے۔اس کی کوئی حرکت کوئی سکون اللہ تعالیٰ کے اذن اورامر۳ کی ایک کَل ہوتی ہے۔ایسی حالت میں اس پر مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى کا اطلاق ہوتاہے اور یہ مقام کامل اور اکمل طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔مکر کے معنے مکر کا لفظ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے استعمال کیا ہے۔پھر یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی آیا ہے اور براہین احمدیہ میں میرے متعلق بھی ایک الہام ہے۔مکر کی حد اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ انسانی تدابیر اور منصوبوں تک ہو۔لیکن جب انسانی منصوبوں کی طرح نہ ہو تو پھر وہ خارق عادت ہوتا ہے مکر نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کفار نے جو منصوبے کئے وہ اس میں پورے ناکام اور نامراد رہے اور اللہ تعالیٰ نے خارقِ عادت و طریق سے آپ کو وعدہ کے موافق بچا لیا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۰؍جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ ۲ یہ ملفوظات بھی ایڈیٹر صاحب الحکم نے ’’پرانی نوٹ بک میں سے کچھ‘‘ کے زیر عنوان بغیر تاریخ کے شائع کیے ہیں۔(مرتّب) ۳ نقل مطابق اصل