ملفوظات (جلد 7) — Page 349
کھڑے ہو کر وعظ کہتے ہیں۔یہ تو علانیہ دشمن ہیں۔پھر ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہےجو گو کھلے طور پر عیسائی تو نہیں ہوئے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ انہیں اسلام کے ساتھ کوئی محبت اور لگاؤ نہیں ہے۔وہ اسلام کے ارکان اور شعار پر ہنستے اور ٹھٹھے کرتے ہیں۔آئے دن اس میں لگے رہتے ہیںکہ جہاں تک ممکن ہو اور بس چلے اسلام کے احکام نماز روزہ میں ترمیم کریں اور اپنی تجویز اور تدبیر سے ایک ایسا اسلام پیدا کریں جس کے بانی مبانی وہ آپ ہی ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیم کردہ اسلام سے خواہ وہ الگ ہی کیوں نہ ہو۔ان لوگوں کی حالت کسی صورت میں عیسائیوں سے کم نہیں ہے۔وہ کھلم کھلا ان کی وردی پہنتے ہیں۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک دشمنِ دین کی وردی وہ کیوں پہنتے ہیں اگر اسلام کے ساتھ انہیں محبت اور پیار ہے۔منہاج نبوت کے معیار پر اس صداقت کو آزماؤ اگر کوئی شخص ہماری جماعت سے نفرت کرتا ہے تو کرے۔لیکن اسے کم از کم غیرت اسلام کے تقاضا سے اور اسلام کی موجودہ حالت کے لحاظ سے یہ بھی تو ضرور ہے کہ وہ کسی ایسی جماعت کو تلاش کرے اور اس کا پتہ دے جو حجج و براہین اور خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات اور روشن آیات سے کسر صلیب کر رہی ہو۔مگر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ خواہ شرقاً غرباً شمالاً جنوباً کہیں بھی چلے جاؤ اس جماعت کا پتہ بجز میرے نہیں ملے گا۔اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے اس غرض کے واسطے مجھے ہی مبعوث کر کے بھیجا ہے۔میرے دعوے کو سن کر نری بد ظنی اور بد لگامی سے کام نہ لو بلکہ تمہیں چاہیے کہ اس پر غور کرو اور منہاج نبوت کے معیار پر اس کی صداقت کو آزماؤ۔انسان ایک پیسے کا برتن لیتا ہے تو اس کی بھی دیکھ بھال کرتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری باتوں کو سنتے ہی، بغیر فکر کئے گالیاں دینی شروع کرتے ہیں۔یہ بہت ہی نامناسب امر ہے۔جو طریق میں نے پیش کیا ہے اس طرح پر میرے دعوے کو آزماؤ اور پھر اگر اس طریق سے بھی تم مجھے کاذب پاؤ تو بے شک افسوس کے ساتھ چھوڑ دو۔لیکن میں تمہیں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں۔کاذب نہیں ہوں۔بلکہ میں وہی ہوں جس کا وعدہ نبیوں کی زبانی ہوتا چلا آیا ہے۔جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے