ملفوظات (جلد 7) — Page 348
ہے اور وہ وہ آیاتِ ارضیہ اور سماویہ ہوتے ہیں جو اس کی تائید اور تصدیق کے لیے ظاہر ہوتے ہیں اور خدا کا فضل ہے کہ اس نے میری تائید اور تصدیق میں ایک دو نہیں لاکھوں لاکھ نشان ظاہر کئے ہیں۔کوئی دیکھنے والا بھی ہو۔پھر میری تائید اور تصدیق اور اس سلسلہ کی سچائی کےلیے دلائل عقلیہ موجود ہیں۔کاش یہ لوگ اگر نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے واقف نہیں تھے اور ان آیات ارضیہ اور سماویہ کو جو میری صداقت کے ثبوت میں میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے تو عقل ہی سے کام لیتے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم میں ذکر آیا ہے کہ جب وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنی غلطی پر اطلاع ہوگی تو کہیں گے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ(الملک:۱۱) اے کاش! اگر ہم سنتے اورپھر سن کر عقل سے کام لیتے تو ہم جہنمی نہ ہوتے۔ضرورت زمانہ کی دلیل میں کہتا ہوں کہ اگر دوسرے امور پر نظر نہ بھی کریں تو ایک ضرورت موجودہ ہی ایسی ہے جو میری سچائی پر مہر کر دیتی ہے۔کیا اس طوفان اور جنگ کے وقت جب عیسائیوں نے اسلام کو نابود کرنا چاہا ہے اور ہر طرف سے اور ہر رنگ سے اس پر حملے کر رہے ہیں۔ہزاروں لاکھوں اخبارات اور رسالے اس کی مخالفت میں شائع کر رہے ہیں۔اس لیےکہ اسلام ان کی راہ میں ایک روک اور پتھر ہے۔اسلام ہی ان کی عیش میں تلخ ہے۔اخبارات یورپ پکار پکار کر کہتے اور وہاں کے مدبّر اور اہل الرائے اسلام ہی کو اپنی ترقی کی راہ میں روک قرار دیتے ہیں۔ایسی حالت میں اسلام کے نیست و نابود کرنے کی جس قدر فکر عیسائیوں کو ہو سکتی ہے اس سے وہ لوگ جو حجروں میں رہتے ہیں کب آشنا اور واقف ہو سکتے ہیں؟ وہ دیکھتے ہیں کہ آئے دن دو چار آدمی مسلمان ہو جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی ترقی ہو رہی ہے انہیں ان حملوں کی خبر نہیں جو مقدس اسلام پر مختلف رنگوں میں ہو رہے ہیں۔عیسائیت کی برباد کن آگ اسلام کے گھر کو لگ چکی ہے۔۲۹ لاکھ تو ایسے ہیں جو اس آگ کی نذر ہو چکے ہیں۔اور اسلام کے لخت جگر کہلا کر مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں