ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 337

صلیبی ابتلا سے بچ جاتے۔سعدی بھی یہی مذہب رکھتا تھا اور یہی سچا مذہب ہے۔کوئی اکابر اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔سعدی کہتا ہے۔؎ وہ کہ گر مُردہ باز گردیدے بسرائے قبیلہ و پیوند رد میراث سخت تر بودے وارثاں را ز مرگ خویشاوند ۱ حضرت اقدسؑ کےکلمات طیبات (ایک شخص کے اپنے الفاظ میں) بلاتاریخ۲ انسان اور آدم فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو آدم بننا چاہیے۔آدم سے مراد کامل انسان ہے۔جب انسان کامل آدم بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم سجدہ (اطاعت) کا دیتا ہے اور اس کے ہر ایک کام کو خدا تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ سے سر انجام کرتا ہے۔لیکن آدم کامل بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا خدا سے سچا اور پکا تعلق ہو۔جب انسان ہر ایک حرکت اور سکون حکم الٰہی کے نیچے ہو کر کرتا ہے تو انسان خدا کا ہو جاتا ہے۔تب خدا انسان کا والی وارث ہوجاتا ہے اور پھر اس پر کوئی مخالفت سے دست اندازی نہیں کر سکتا۔لیکن وہ آدمی جو احکامِ الٰہی کی پروا نہیں کرتا خدا بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔جیسے کہ آیت کریمہوَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا(الشّمس: ۱۶) سے ظاہر ہے۔یعنی نافرمانوں پر جب وہ عذاب کرنے پر آتا ہے تو ایسی لا اُبالی ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۹،۱۰ ۲مندرجہ عنوان کے ماتحت بلا تاریخ یہ ملفوظات الحکم جلد ۹ نمبر ۵ کے صفحہ ۴ پر درج ہیں۔جن کے آخر میں محمد خاں صاحب مرحوم کا نام لکھا ہے۔معلوم ہوتا ہے مکرم محمد خاں صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کسی مجلس میں یہ کلمات سنے اور انہیں اپنے الفاظ میں قلمبند کر کے الحکم میں اشاعت کے لیے بھیجا۔(مرتّب)