ملفوظات (جلد 7) — Page 338
سے عذاب کرتا ہے کہ عذاب کسی ہلاکت سے ان کے بال بچوں کی بھی پروا نہیں کرتا کہ ان کا حال ان کے نافرمان والدین کے بعد کیا ہوگا جیسے کہ آیت کریمہ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُ۔كُمْ(الفرقان:۷۸) یعنی خدا کو تمہاری پروا ہی کیا ہے اگر تم اس کی فرماں برداری میںکوشاں نہ ہو اور اس کے احکاموں کو بے پروائی سے دیکھو۔فرمایا کہ دنیا میں لاکھوں بکریاں بھیڑیں ذبح ہوتی ہیں لیکن کوئی ان کے سرہانے بیٹھ کر نہیں روتا اس کا کیا باعث ہے؟ یہی کہ ان کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اسی طرح ایسے انسان کی ہلاکت کی بھی آسمان پر کوئی پروا نہیں ہوتی جو اس سے سچا تعلق نہیں رکھتا۔انسان اگر خدا سے سچا تعلق رکھتا ہے تو اشرف المخلوقات ہے ورنہ کیڑوں سے بھی بد تر ہے۔اس میں دو اُنس ہیں۔ایک اُنس احکام الٰہی سے (جو ہو تو وہ کامل آدم ہے ورنہ وہ مردہ کیڑہ ہے) دوم مخلوق الٰہی سے۔دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ کئی ایک محض بے گناہ قید ہو جاتے ہیں اور ظالمانہ دست اندازیوں کا نشانہ بنتے ہیں مگر اس کا باعث یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کے احکام کی پوری پروا نہیں کرتے اور دعاؤں سے اس کی پناہ نہیں چاہتے اور شریعت میں بالکل لاپروا ہوتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی ان سے لا اُبالی کا معاملہ کرتا ہے ورنہ ان کا خدا سے سچا تعلق ہوتا تو ہرگز ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے دوست کو دشمنوں کے ہاتھوں میں یوں چھوڑے کیونکہ وہ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ(اٰلِ عـمران: ۶۹) اور نَحْنُ اَوْلِيٰٓـؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ(حٰمٓ السجدۃ: ۳۲) کا وعدہ کرتا ہے۔آدم علیہ السلام کامل انسان تھے تو فرشتوں کو سجدہ (اطاعت ) کا حکم ہوا۔اسی طرح اگر ہم میں ہر ایک آدم بنے تو وہ بھی فرشتوں سے سجدہ کا مستحق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کامل انسان کوئی نہیں فرمایا کہ کامل انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہوگا؟ دیکھو! جب انہوں نے اپنی جان، اپنا مال، اپنی حیات، ممات رب العالمین پر قربان کر دیئے یعنی سارے کے سارے خدا کے ہوگئے تو کیسا خدا ان کا ہوا اور کیسے فرشتوں سے ان کی مدد کی۔اگر وہ فرشتوں سے مدد نہ کرتا