ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 330

کرتے ہیں کہ آنے والا موعود حکم ہو کر آئے گا۔دوسری طرف حالت یہ ہے کہ ایک بات بھی ماننے کو طیار نہیں۔پھر وہ حَکم کس بات کا ہوگا؟ اگر ان کے زعم اور خیال کے موافق مسیح آسمان سے بھی آجاتا تب بھی یقینی امر تھا کہ اسے ہرگز تسلیم نہ کرتے کیونکہ بہ حیثیت حَکم ہونے کے اس کا تو کام یہ ہوتا کہ وہ سب کی غلطیاں نکال کر صراط مستقیم پر سب کو لاتا اور یہ اپنی غلطیوں کو چھوڑنے والے نہیں۔حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، شیعہ، خوارج وغیرہ وغیرہ۔ہر فرقہ والا اپنی بات اسے منوانی چاہتا اور جس کی وہ نہ مانتا اس کے نزدیک ہی کافر اور بے دین ٹھہرتا۔پھر ایسی صورت میں ہم کیونکر مان لیں کہ یہ اپنے فرضی مسیح کو مان لیں گے۔حَکم اسے کہتے ہیںجو قاضی ہو اور غلطیاں نکال کر اصلاح کرے۔ہم نے تو ذرا سی ہی غلطی پیش کی تھی کہ مسیح مر گیا ہے اور وہ نہیں آئیں گے۔آنے والا امتی ہے جیسا کہ قرآن مِنْکُمْ کہتا ہے اور بخاری اور مسلم میں بھی مِنْکُمْ ہی آیا ہے۔اب اس غلطی کو جو اسلام کی عظمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت شان کی صریح مخالف ہے یہ چھوڑ نہیں سکتے اور میرا فیصلہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ خود مجھ پر حَکم ہونا چاہتے ہیں۔افسوس ہے کہ میں اس اختلاف کی وجہ سے جو اسلام کی زندگی کا اصل ذریعہ ہے کافر اور یہ اپنے ہزاروں خطرناک اختلافوں کی وجہ سے بھی مسلمان کے مسلمان ہی ہیں۔شیعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص اور جان نثار صحابہؓ کو سبّ و شتم کرتے ہیں اور ان کو کافر اور مرتد بتاتے ہیں اور پھر بھی وہ سچے کے سچے۔اب کوئی انصاف کرے کہ وہ آنے والا حَکم ان میں آکر کیا کرے گا۔کیا وہ بھی ان کے ساتھ تبرّا میں شامل ہوگا یا اس سے ان کو باز رہنے کی ہدایت کرے گا؟ اگر ان میں خوفِ خدا ہوتا اور یہ تقوے سے کام لیتے اور لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ (بنی اسـرآءیل:۳۷) پر عمل کرتے اور میری باتوں کو غور سے سنتے اور پھر ان پر فکر کرتے اس کے بعد حق تھا جو چاہتے کہتے۔مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی اور خدا کے خوف سے نہ ڈرے جو منہ میں آیا کہہ گذرے۔