ملفوظات (جلد 7) — Page 327
ہے۔لیکن پھر بھی قرآن شریف کے انوار و برکات اور اس کی تاثیرات ہمیشہ زندہ اور تازہ بتازہ ہیں۔چنانچہ میں اس وقت اسی ثبوت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے اپنے وقت پر اپنے بندوں کو اس کی حمایت اور تائید کے لیے بھیجتا رہا ہے۔کیونکہ اس نے وعدہ فرمایا تھا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن شریف ) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کےلیے نہیں۔اسی لیے ان کتابوں میں انسانی چالاکیوں نے اپنا کام کیا۔قرآن شریف کی حفاظت کا یہ بڑا زبردست ذریعہ ہے کہ اس کی تاثیرات کا ہمیشہ تازہ بتازہ ثبوت ملتا رہتا ہے اور یہود نے چونکہ توریت کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور ان میں کوئی اثر اور قوت باقی نہیں رہی جو ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔قیامت کی حقانیت یہودی۔مسلمان قیامت پر ایمان لاتے ہیں۔وہ کون سے علامات ہیں جن کی وجہ سے وہ ایمان لاتے ہیں۔حضرت اقدس۔انسان کا اپنا جسم ہی اس کو حشر نشر پر ایمان لانے کے لیے مجبور کرتا ہے کیونکہ ہر آن اس میں حشر نشر ہو رہا ہے۔یہاں تک کہ تین سال کے بعد یہ جسم رہتا ہی نہیں اور دوسرا جسم آجاتا ہے یہی قیامت ہے۔اس کے سوا یہ ضروری امر نہیں کہ کل مسائل کو عقلی طور پر ہی سمجھ لے۔بلکہ انسان کا فرض ہے کہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال اور صفات کے ساتھ موجود ہے اور اس کی صفات میں سے یہ بھی ہے يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ(اٰلِ عـمران:۴۸) اور عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (البقرۃ:۱۰۷)۔تو اس بات کے ماننے میں کہ قیامت ہوگی کیا شک ہو سکتا ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ ہم اس کا ثبوت یہاں بھی رکھتے اور دیکھتے ہوں۔بے شک قیامت حق ہے اور اس کی قدرتوں کا ایک نمونہ۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (البقرۃ:۱۰۷) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ حشر و نشر پر بھی قادر ہے اور حشر و نشر قدرت ہی پر موقوف ہے۔یہ اسلام کی خصوصیات ہیں کہ اسلام نری تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ جب انسان اس تعلیم پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے نشانات