ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 323

پوچھے۔جواب سمیت ذیل میں درج کرتا ہوں۔یہ یاد رہے کہ سوال جواب عربی زبان میں تھے۔میں ان کا مفہوم لے کر اردو میں لکھتا ہوں۔(ایڈیٹر ) ترک۔آپ کا دعویٰ ہے کہ میں مہدی ہوں اور احادیث میں آیا ہے کہ مہدی جب آئے گا تو لڑائی کرے گا۔حضرت اقدس۔آپ کو معلوم نہیں۔یہ بالکل غلط خیال ہے۔مہدی کے متعلق جس قدر احادیث اس قسم کی ہیں وہ محدثین نے مجروح قرار دی ہیں۔صرف ایک حدیث لَا مَھْدِیَ اِلَّا عِیْسٰی ہے یعنی بجز مسیح موعود کے اور کوئی مہدی آنے والا نہیں ہے۔وہی موعود جس کو بخاری میں اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ فرمایا ہے یعنی اسی امت میں سے آنے والا۔اور اس کے متعلق کہیں نہیں لکھا کہ وہ لڑائیاں کرے گا بلکہ بخاری میں جو اَصَـحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللہِ ہے صاف لکھا ہے کہ یَضَعُ الْـحَرْبَ۔یعنی اس کے وقت میں مذہبی لڑائیاں نہ ہوں گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب حرب کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے مخالف ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرتے۔وہ تو قلم کے ساتھ اعتراض کرتے ہیں۔پس یہ کیسی کمزوری ہوتی کہ قلم کا جواب قلم سے نہ دیا جاتا بلکہ اس کے لیے ہتھیار استعمال ہوتے۔ایسی صورت میں جبکہ قلم کے حملے ہو رہے ہیں ہمارا یہی فرض ہے کہ قلم کے ساتھ ان کو روکیں۔علاوہ بریں اگر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی ہوتی کہ ایسے زمانہ میں اسلام کی ترقی جنگ سے وابستہ ہوتی تو ہر قسم کے ہتھیار مسلمانوں کو دیئے جاتے۔حالانکہ جس قدر ایجادیں آلاتِ حربیہ کے متعلق یورپ میں ہو رہی ہیں کسی جگہ نہیں ہوتی ہیں۔جس سے اللہ تعالیٰ کی مصلحت کا صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ لڑائی کا زمانہ نہیں ہے۔اور کبھی بھی کوئی دین اور مذہب لڑائی سے نہیں پھیل سکتا۔پہلے بھی اسلام کی ترقی اور اشاعت کے لیے تلوار نہیں اٹھائی گئی۔اسلام اپنے برکات، انوار اور تاثیرات کے ذریعہ پھیلا ہے اور ہمیشہ اسی طرح پھیلے گا۔پس یہ نہایت ہی غلط اور مکروہ خیال ہے کہ مسیح کے وقت جنگ ہوگی اور نہ مسیح کو اس کی حاجت۔وہ قلم سے کام لے گا اور اسلام کی حقانیت اور صداقت کو پر زور دلائل اور تاثیرات کے ساتھ ثابت کر کے دکھائے گا اور دوسرے ادیان پر اس کو غالب کرے گا اور یہ ہو رہا ہے۔