ملفوظات (جلد 7) — Page 315
کیونکہ غریب تو اپنے مرشد اور آقا کی کسی خدمت سے عار نہیں کرے گا مگر یہ عار کرے گا۔ہاں اگر خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے اور دولت مند آدمی اپنے مال و دولت پر نازنہ کرے اور اس کو بندگان خدا کی خدمت میں صرف کرنے اور ان کی ہمدردی میں لگانے کے لیے موقع پائے اور اپنا فرض سمجھے تو پھر وہ ایک خیر کثیر کا وارث ہے۔دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو اصل بات یہ ہے کہ سب سے مشکل اور نازک مرحلہ حقوق العباد ہی کا ہے کیونکہ ہر وقت اس کا معاملہ پڑتا ہے اور ہر آن یہ ابتلا سامنے رہتا ہے۔پس اس مرحلہ پر بہت ہی ہوشیاری سے قدم اٹھانا چاہیے۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو۔بعض لوگ چاہتےہیں کہ جہاں تک ہو سکے اس کی تخریب اور بربادی کے لیے سعی کی جاوے۔پھر وہ اس فکر میں پڑ کر جائز اور ناجائز امور کی بھی پروا نہیں کرتے۔اس کو بدنام کرنے کے واسطے جھوٹی تہمت اس پر لگاتے، افترا کرتے اور اس کی غیبت کرتے اور دوسروں کو اس کے برخلاف اکساتے ہیں۔اب بتاؤ کہ معمولی دشمنی سے کس قدر برائیوں اور بدیوں کا وارث بنا اور پھر یہ بدیاں جب اپنے بچے دیں گی تو کہاں تک نوبت پہنچے گی؟ میں سچ کہتا ہوں کہ تم کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو اور اس کینہ توزی کی عادت کو بالکل ترک کر دو۔اگر خدا تمہارے ساتھ ہے اور تم خدا کے ہو جاؤ تو وہ دشمنوں کو بھی تمہارے خادموں میں داخل کر سکتا ہے۔لیکن اگر تم خدا ہی سے قطع تعلق کیے بیٹھے ہو اور اس کے ساتھ ہی کوئی رشتہ دوستی کا باقی نہیں اس کی خلاف مرضی تمہارا چال چلن ہے پھر خدا سے بڑھ کر تمہارا دشمن کون ہوگا؟ مخلوق کی دشمنی سے انسان بچ سکتا ہے لیکن جب خدا دشمن ہو تو پھر اگر ساری مخلوق دوست ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لیے تمہارا طریق انبیاء علیہم السلام کا سا طریق ہو۔خدا تعالیٰ کا منشا یہی ہے کہ ذاتی اعداء کوئی نہ ہوں۔خوب یاد رکھو کہ انسان کو شرف اور سعادت تب ملتی ہے جب وہ ذاتی طور پر کسی کا دشمن نہ ہو۔ہاں اللہ اور اس کے رسول کی عزت کے لیے الگ امر ہے یعنی جو شخص خدا اور اس کے رسول کی عزت