ملفوظات (جلد 7) — Page 316
نہیں کرتا بلکہ ان کا دشمن ہے اسے تم اپنا دشمن سمجھو۔لیکن اس دشمنی سمجھنے کے یہ معنے نہیںہیں کہ تم اس پر افترا کرو اور بلا وجہ اس کو دکھ دینے کے منصوبے کرو۔نہیں۔بلکہ اس سے الگ ہوجاؤ اور خدا تعالیٰ کے سپرد کرو۔ممکن ہو تو اس کی اصلاح کے لیے دعا کرو۔اپنی طرف سے کوئی نئی بھاجی اس کے ساتھ شروع نہ کرو۔یہ امور ہیں جو تزکیہ نفس سے متعلق ہیں۔کہتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک دشمن سے لڑتے تھے اور محض خدا کے لیے لڑتے تھے۔آخر حضرت علیؓ نے اس کو اپنے نیچے گرا لیا اور اس کے سینہ پر چڑھ بیٹھے۔اس نے جھٹ حضرت علیؓ کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اس کی چھاتی پر سے اتر آئے اور اسے چھوڑ دیا۔اس لیے کہ اب تک تو میں محض خدا کے لیے تیرے ساتھ لڑتا تھا لیکن اب جبکہ تو نے میرے منہ پر تھوک دیا ہے تو میرے اپنے نفس کا بھی کچھ حصہ اس میں شریک ہوجاتا ہے۔پس میں نہیں چاہتا کہ اپنے نفس کے لیے تمہیں قتل کروں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے نفس کے دشمن کو دشمن نہیں سمجھا۔ایسی فطرت اور عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔اگر نفسانی لالچ اور اغراض کے لیے کسی کو دکھ دیتے اور عداوت کے سلسلوں کو وسیع کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر خدا کو ناراض کرنے والی کیا بات ہوگی۔ہم سے دو شغل نہیں ہو سکتے ایک شخص نے ایک جائیداد کے متعلق جو فروخت ہونے والی ہے کہا کہ آپ اس کو خرید لیں ایسا نہ ہو کہ فلاں سکھ یا کوئی اور خرید لے۔فرمایا۔ہمیں ان باتوں سے کیا غرض۔ہم جائیدادیں اور زمینیں خریدنے کے واسطے نہیں آئے۔ہم کو کیا سکھ خرید لے یا کوئی اور خرید لے۔ہمیشہ اس شعر کو یاد رکھا جاوے۔؎ خواجہ در بند نقش ایوان است خانہ از پائے بست ویران است ہم سے دو شغل نہیں ہو سکتے۔یہی خدمت جو خدا نے ہمارے سپرد کی ہے۔پورے طور پر ادا ہوجائے تو کافی ہے اس کے سوا ہمیں اور کسی کام کے لیے نہ فرصت ہے نہ ضرورت۔ایک شخص نے کہا کہ تجارت کے متعلق خواہ نخواہ سود دینا پڑتا ہے۔