ملفوظات (جلد 7) — Page 313
کام بگڑا۔مثلاً چائے میں نقص ہوا تو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کر دیا اور ذرا شوربے میں نمک زیادہ ہوگیا بس بیچارے خدمت گاروں پر آفت آئی۔دوسرے غرباء کے ساتھ معاملہ تب پڑتا ہے کہ وہ فاقہ مست ہوتے ہیں اور خشک روٹی پر گذارہ کر لیتے ہیں مگر یہ باوجود علم ہونے کے بھی ان کی پروا نہیں کرتے۔وہ ان کو امتحان میں ڈالتے ہیں جب بصورت سائل آتے ہیں۔خدا تعالیٰ تو ذرّہ ذرّہ کا خالق ہے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ غریبوں کے ساتھ ہی معاملہ کر کے سمجھا جاتا ہے کہ کس قدر نا خدا ترسی یا خدا ترسی سے حصہ لیتا ہے یا لے گا۔نوع انسان پر شفقت کرنا عبادت ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ بعض بندوں سے فرمائے گا کہ تم بڑے برگزیدہ ہو اور میں تم سے بہت خوش ہوں کیونکہ میں بہت بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں ننگا تھا تم نے کپڑا دیا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میں بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔وہ کہیں گے کہ یا اللہ! تُو تو ان باتوں سے پاک ہے تو کب ایسا تھا جو ہم نے تیرے ساتھ ایسا کیا؟ تب وہ فرمائے گا کہ میرے فلاں فلاں بندے ایسے تھے تم نے ان کی خبر گیری کی وہ ایسا معاملہ تھا کہ گویا تم نے میرے ساتھ ہی کیا۔پھر ایک اور گروہ پیش ہوگا۔ان سے کہے گا کہ تم نے میرے ساتھ برا معاملہ کیا۔میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ دیا۔پیاسا تھا پانی نہ دیا۔ننگا تھا مجھے کپڑا نہ دیا۔میں بیمار تھا میری عیادت نہ کی۔تب وہ کہیں گے کہ یا اللہ تعالیٰ! تُو تو ایسی باتوں سے پاک ہے۔تو کب ایسا تھا جو ہم نے ایسا کیا؟ اس پر فرمائے گا کہ میرا فلاں فلاں بندہ اس حالت میں تھا اور تم نے ان کے ساتھ کوئی ہمدردی اور سلوک نہ کیا وہ گویا میرے ہی ساتھ کرنا تھا۔غرض نوعِ انسان پر شفقت اوراس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ان پر ٹھٹھے کیے جاتے ہیں۔ان کی خبر گیری کرنا اور