ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 301

ہوچکا ہے اور خدا تعالیٰ خاموش ہوگیا وہ کسی سے کلام نہیں کرتا۔دعاؤں میں تاثیر اور قبولیت نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات پیچھے رہ گئی ہیں اب نہیں۔افسوس ان پر! انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف اور خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کی۔اسلام زندہ مذہب اور ہماری کتاب زندہ کتاب اور ہمارا خدا زندہ خدا اور ہمارا رسول زندہ رسول۔پھر اس کے برکات، انوار اور تاثیرات مردہ کیونکر ہو سکتی ہیں؟ میں اس مخالفت کی کچھ پروا نہیں کر سکتا۔ان کی مخالفت کے خیال سے میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ کیا امت میں وحی و الہام کا دروازہ بند ہے لاہور میں عبد الحکیم نام ایک شخص سے میری گفتگو ہوئی۔اس نے کہا کہ الہام پہلی امتوں کا خاصہ تھا یہاں تک کہ عورتوں کو بھی وحی ہوتی تھی مگر اس امت میں یہ دروازہ بند ہے۔کیسے شرم کی بات ہے! کیا یہ امت بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہو گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کے لیے یہی چاہا ہے کہ وہ خیر الامم کہلا کر بھی محروم رہے؟ اس عبد الحکیم نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی محدّث نہ تھے۔وہ بھی صرف ان کو ایک خوش کرنے کی بات تھی محدّث وہ بھی نہ تھے۔مختصر یہ کہ اس قسم کی ہتک اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ لوگ کرتے ہیں۔پھر میں ان کی مخالفت کی کیا پروا کروں؟ یہ لوگ اسلام کے دوست نہیں دشمن ہیں۔اگر بقول ان کے سب بے نصیب ہیں تو پھر کیا فائدہ؟ ہزار اتباع کریں معرفت نہ بڑھے گی۔تو کوئی احمق اور نادان ہی ہوگا جو اس پر بھی اتباع ضروری سمجھے۔حضرت عیسیٰ کا آنا نہ آنا تو امر ہی الگ ہے۔اس سوال کو پیچھے چھوڑو۔پہلے یہ تو فیصلہ کرو کہ کیا اس امت پر بھی وہ برکات اور فیوض ہوں گے یا نہیں؟ جب یہ فیصلہ ہولے تو پھر عیسیٰ کی آمد کا سوال جھٹ حل ہو سکتا ہے۔یہ لوگ جن مہلکات میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بہت خطرناک مرض ہے اس سے بڑھ کر اور کیا