ملفوظات (جلد 7) — Page 300
شر الامت کہو گے؟ اور اس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ پر حملہ ہو گا۔مگر یقیناً یہ سب جھوٹ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اعلیٰ درجہ کی تھی اور ہے اس لیے کہ وہ اب تک اپنا اثر دکھا رہی اور تیرہ سو سال گذرنے کے بعد مطہر اور مقدس وجود پیدا کرتی ہے۔اسلام کی برکات اور تاثیرات اب بھی جاری ہیں اللہ تعالیٰ کا انتقالِ نبوت سے یہی منشا تھا کہ وہ اپنا فضل و کمال دکھانا چاہتا تھا جواس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا تھا۔اسی کی طرف اشارہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) میں۔یعنی اے اللہ! ہم پر وہ انعام و اکرام کر جو پہلے نبیوں اور صدیقوں شہیدوں اور صالحین پر تو نے کئے ہیں ہم پر بھی کر۔اگر خدا تعالیٰ یہ انعام و اکرام کر ہی نہیں سکتا تھا اور ان کا دروازہ بند ہو چکا تھا تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا ضرورت تھی؟ اسرائیلیوں پر تو یہ دروازہ بند ہوچکا تھا۔اگر یہاں بھی بند ہوگیا تو پھر کیا فائدہ ہوا؟ اور کس بات میں بنی اسرائیل پر اس امت کو فخر ہوا؟ جو خود اندھا ہے وہ دوسرے اندھے پر کیا فخر کر سکتا ہے؟ اگر وحی، الہام، خوارق یہودیوں پر بند ہو چکے ہیں تو پھر یہ بتاؤ کہ یہ دروازہ کسی جگہ جا کر کھلا بھی یا نہیں؟ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ نہیں ہم پر بھی یہ دروازہ بند ہے۔یہ کیسی بد نصیبی ہے پانچ وقت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا کرتے ہیں اور اس پر بھی کچھ نہیں ملتا۔تعجب!! اللہ تعالیٰ کا خود ایسی دعا تعلیم کرنا تو یہ معنی رکھتا ہے کہ میں تم پر انعام و اکرام کرنے کے لیے طیار ہوں۔جیسے کسی حاکم کے سامنے پانچ امیدوار ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو کہے کہ تم یہاں حاضر رہو تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ اس کو ضرور کام دیا جاوے گا۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم کی اور پانچ وقت یہ پڑھی جاتی ہے مگر ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ اس کا کچھ بھی اثر اور نتیجہ نہیں ہوتا۔کیا یہ قرآن شریف کی ہتک اور اسلام کی ہتک نہیں؟ میرے اور ان کے درمیان یہی امر در اصل متنازعہ فیہ ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کے برکات اور تاثیرات جیسے پہلے تھیں ویسے ہی اب بھی ہیں۔وہ خدا اپنے تصرفات اب بھی دکھاتا ہے اور کلام کرتا ہے۔مگر یہ اس کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہ اب یہ دروازہ بند