ملفوظات (جلد 7) — Page 299
نتقال نبوت تنزل کے طور پر تھا اور ناقص تھا؟ اگر ایسا تھا تو پھر یہودی ناز کر سکتے ہیں اور وہ یہ پیش کر سکتے ہیں کہ ہم پر یہ فضل ہوا اور وہ انعام ہوا۔منجملہ اس کے ایک یہ بھی کہ توریت کی خدمت اور اس کے استحکام کے لیے برابر خلفاء اور رسل آتے رہے۔لیکن قرآن شریف کو یہ مرتبہ حاصل نہ ہوا (نعوذ باللہ من ذالک)۔سوچ کر بتاؤ کہ کیا یہ اسلام کی بے عزتی اور نقص کی دلیل ہوگی یا اس کے لیے عظمت کا ذریعہ؟ مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے مخالفوں نے میری مخالفت میں یہاں تک غلو کیا ہے کہ اسلام کی بھی سخت ہتک کر لینی انہوں نے گوارا کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خاتم الانبیاء اور تمام نبیوں سے افضل اور اکمل تھے (صلی اللہ علیہ وسلم) معاذ اللہ ناقص نبی ٹھیرایا۔جب یہ تسلیم کر لیا اور اپنا عقیدہ بنا لیا کہ اب کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ سے شرفِ مکالمہ پاسکے اور خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ پر تائیدی نشان ظاہر کر سکے۔تم خود بتاؤ کہ اس عقیدہ سے اسلام کا کیا باقی رہتا ہے؟ اگر خدا تعالیٰ پہلے بولتا تھا مگر اب نہیں بولتا تو اس کا ثبوت کیا ہے کہ وہ پہلے بولتا تھا۔اگر خدا تعالیٰ پہلے خارق عادت تصرفات دکھاتا تھا مگر اب نہیں دکھاتا تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ قصے کہانیاں کون قوم بیان نہیں کرتی۔افسوس! ان کو تعصب نے ایسا اندھا کر دیا ہے کہ کچھ بھی ان کو سوجھائی نہیں دیتا اور میری مخالفت میں یہ اسلام کو بھی ہاتھ سے دیتے ہیں۔مسیح ناصری کے اس امت میں آنے کے عقیدہ کے نقصانات غرض اگر یہودی ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ(البقرۃ:۶۲) کے مصداق ہوچکے ہیں اور نبوت اس خاندان سے منتقل ہوچکی ہے تو پھر یہ ناممکن ہے کہ مسیح دوبارہ اسی خاندان سے آوے۔اگر یہ تسلیم کیا جاوے گا تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ادنیٰ نبی مانا جاوے اور اس امت کو بھی ادنیٰ امت۔حالانکہ یہ قرآن شریف کے منشا کے صریح خلاف ہے کیونکہ قرآن شریف نے تو صاف طور پر فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( اٰلِ عـمران:۱۱۱) پھر اس امت کو خیر الامت کی بجائے