ملفوظات (جلد 7) — Page 296
اصل غرض مقامِ رضا کا حصول ہے پس یہی وہ امر ہے جو میں اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ ان میں صحابہؓ کا نمونہ قائم ہو۔مجھے افسوس ہوتا ہے کہ جب کثرت سے ایسے خطوط آتے ہیں کہ جن میں دنیا اور اس کی خواہشوں کا ذکر ہوتا ہے اور لکھا جاتا ہے کہ میرے لیے فلاں امر کے واسطے دعا کرو۔میری فلاں آرزو پوری ہو جائے۔بہت ہی تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو محض خدا کی رضا ہی کو مقدم کرتے ہیں اور اسی کی ہی خواہش اور آرزو کرتے ہیں۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ مکر سے لکھتے ہیں۔یعنی پہلے تو ذکر کرتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ ہمارے دل میں ذوق شوق عبادت کا پیدا ہوجاوے اور یہ ہو اور وہ ہو۔پھر آخر میں اپنی دنیوی خواہشوں کو ظاہر کرتے ہیں۔میں ایسی بدبو دار تحریروں کو شناخت کر لیتا ہوں کہ ان کی اصل غرض کیا ہے؟ وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور وہ نیّات کو خوب دیکھتا ہے۔اس طرح پر تو گویا خدا کو دھوکہ دینا ہے۔اس طریق کو بالکل چھوڑ دینا چاہیے۔تمہیں چاہیےکہ خالصۃً اللہ کے لیے ہو جاؤ۔اگر تم اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کو مقدم کرو گے تو یقیناً سمجھو دنیا میں بھی ذلیل اور خوار نہیں رہو گے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے لیے غیرت ہوتی ہے وہ خود ان کا تکفّل فرماتا ہے اور ہرقسم کی مشکلات سے انہیں نجات اور مخلصی عطا فرماتا ہے۔میں یقیناً جانتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر تم میں وہ تخم بویا گیا جو صحابہؓ میں بویا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ ہر طرح اپنے فضل کرے گا۔ایسے شخص پر کوئی شخص حملہ نہیں کر سکتا۔اس امر کو خوب یاد رکھو کہ اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا اور مضبوط تعلق ہو جاوے تو پھر کسی کی دشمنی کی کیا پروا ہو سکتی ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میرے نزدیک عیسیٰ یا موسیٰ کا دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اصل غرض تو یہ ہے کہ میں مقام رضا حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہی سب کو کرنا چاہیے۔یہ اس کا فضل اور محض فضل ہے کہ وہ اپنے انعامات سے حصہ دے اور اس کے حضور کوئی کمی اور اس کی ذات میں کوئی بخل نہیں۔یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے۔میرے نزدیک جو شخص ایسا گمان کرتا ہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔اگر انسان انبیاء و رسل کے انعامات کو حاصل نہیں کر سکتا تو پھر دنیا میں ان کے آنے سے کیا فائدہ اور کیا حاصل؟ خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے والوں اور راستبازوں کی