ملفوظات (جلد 7) — Page 293
مسلمان ہوگیا۔یہ کشش اور جذب جو مامورین کو دیاجاتا ہے وہ مستعد دلوں کو تو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور ان لوگوں کو جو اس سے حصہ نہیں رکھتے دشمنی میں ترقی کرنے کا موقع دیتا ہے۔؎ باراں کہ در لطافتِ طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم و خس اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کی خاصیت ہوتی ہے کہ مومن اور کافر ان کے طفیل سے اپنے کفر اور ایمان میں کمال کرتے ہیں۔لکھا ہے کہ ابوجہل کا کفر پورا نہ ہوتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے۔پہلے اس کا کفر مخفی تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر اس کا اظہار ہوگیا۔اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا صدق بھی مخفی تھا جو اس وقت ظاہر ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی دعوت کی۔ایک نے اس دعوت کو قبول کیا اور دوسرے نے انکار کر دیا۔ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا(البقرۃ:۱۱) انبیاء و رسل آکر اس خباثت اور شقاوت کو جو ان کے اندر ہوتی ہے ظاہر کر دیتے ہیں۔قرآن شریف نے انبیاء و رسل کی بعثت کی مثال مینہ سے دی ہے وَ الْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا (الاعراف:۵۹) یہ تمثیل اسلام کی ہے۔جب کوئی رسول آتا ہے تو انسانی فطرتوں کے سارے خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ان کے ظہو رکا یہ خاصہ اورعلامات ہیں کہ مخلص سعیدالفطرت اور مستعد طبیعت کے لوگ اپنے اخلاص اور ارادت میں ترقی کرتے ہیں ا ور شریر شرارت میں بڑھ جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب خبیث اور منکر گروہ نے شرارتیں کرنی شروع کیں اور دکھ اور ایذا رسانی کے منصوبے کیے اس وقت معلوم ہوا کہ کیسی کیسی خبیث روحیں ہیں۔ایک وہ لوگ تھے کہ انہوں نے آپ کی راہ میں اپنے سر کٹوا ڈالے۔ان کے حالات اور واقعات کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ان میں کیسا اخلاص اور ارادت تھی۔فی الحقیقت ان کا اسوہ اسوۂ حسنہ ہے۔یہاں تک کہ ان میں سے اگر کسی کا ایک ضرب سے سر نہیں کٹا تو اس کو شک ہوا کہ شہید نہیں ہوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں کیسے فدا تھے۔لکھا ہے کہ ایک صحابی نے اپنے مخالف کو ایک تلوار ماری۔اس کے نہ لگی مگر اپنے لگی۔دوسرے نے کہا کہ شہید نہیں