ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 22

کرتا جو کوشش کا حق ہے اور پھر اس قدر دعا نہیں کرتا جو دعا کرنے کا حق ہے تو وہ اس اقرار کی جو خدا تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے سخت بے حرمتی کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ گنہگار اور قابل سزا ٹھہرتا ہے۔پس یہ ہرگز نہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بیعت کا اقرار ہی ہمارے لیے کافی ہے اور ہمیں کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔مِثل مشہور ہے جوئندہ یابندہ۔جو شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اس کے لیے کھولا جاتا ہے اور قرآن شریف میں بھی فرمایا گیا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہماری طرف آتے ہیں اور ہمارے لیے مجاہدہ کرتے ہیں۔ہم ان کے واسطے اپنی راہ کھول دیتے ہیں اور صراط مستقیم پر چلا دیتے ہیں۔لیکن جو شخص کوشش ہی نہیں کرتا ہے وہ کس طرح اس راہ کو پاسکتا ہے۔۱ خدا یابی اور حقیقی کامیابی اور نجات کا یہی گُر اور اصول ہے۔انسان کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے سے تھکے نہیں نہ درماندہ ہو اور نہ اس راہ میں کوئی کمزوری ظاہر کرے۔تم لوگوں نے اس وقت خدا تعالیٰ کے حضور میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہ توبہ تمہارے لیے باعث برکت ہونے کی بجائے لعنت کا موجب ہوجاوے۔کیونکہ اگر تم لوگ مجھے شناخت کر کے بھی اور خدا تعالیٰ سے اقرار کر کے بھی اس عہد کو توڑتے ہو تو پھر تم کو دوہرا عذاب ہے کیونکہ عمداً تم نے معاہدہ کو توڑا ہے۔دنیا میں جب کوئی شخص کسی سے عہد کر کے اسے توڑتا ہے تو اس کو کس قدر ذلیل اور شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔وہ سب کی نظروں سے گر جاتا ہے۔پھر جو شخص خدا تعالیٰ سے عہد اور اقرار کر کے توڑے وہ کس قدر عذاب اور لعنت کا مستحق ہوگا۔پس جہاں تک تم سے ہو سکتا ہے اس اقرار اور عہد کی رعایت کرو اور ہر قسم کے گناہوں سے بچتے رہو۔پھر اس اقرار پر قائم اور مضبوط رہنے کے واسطے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو۔وہ یقیناً تمہیں تسلی اور اطمینان دے گا اور تمہیں ثابت قدم کرے گا کیونکہ جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے اسے دیا جاتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ تم میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے جن کو میرے ساتھ