ملفوظات (جلد 7) — Page 287
کمزوریوں پر نظر کر کے مکہ کو بدنام کرنا یا اس کی بزرگی اور عظمت کی نسبت شک کرنا بڑی غلطی ہے۔سچ یہی ہے کہ کعبہ کی بزرگی اور نورانیت دوسری آنکھوں سے نظر آتی ہے جیسا کہ سعدی نے فرمایا ہے ؎ چو بیت المقدس درون پُر ز تاب رہا کردہ دیوار بیرون خراب موجودہ زمانہ کے پیر زادے اور مشائخ اولیاء اللہ کی بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہے کہ ان میں تکلفات نہیں ہوتے بلکہ وہ بہت ہی سادہ اور صاف دل لوگ ہوتے ہیں۔ان کے لباس اور دوسرے امور میں کسی قسم کی بناوٹ اور تصنع نہیں ہوتا مگر اس وقت اگر پیر زادوں اور مشائخوں کو دیکھا جاوے تو ان میں بڑے بڑے تکلفات پائے جاتے ہیں۔ان کا کوئی قول اور فعل ایسا نہ پاؤ گے جو تکلف سے خالی ہو گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ امت محمدیہ ہی میں سے نہیں ہیں۔ان کی کوئی اور ہی شریعت ہے۔ان کی پوشاک دیکھو تو اس میں خاص قسم کا تکلف ہوگا۔نشست برخاست اور ہر قسم کی حرکات میں ایک تکلف ہوگا یہاں تک کہ لوگوں سے ملنے جلنے اور کلام میں بھی ایک تکلف ہوتا ہے۔اِن کی خاموشی محض تکلف سے ہوتی ہے۔گویا ہرقسم کی تاثیرات کو وہ تکلف سے ہی وابستہ سمجھتے ہیں۔برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ (صٓ:۸۷) اور ایسا ہی دوسرے تمام انبیاء و رسل جو وقتاً فوقتاً آئے وہ نہایت سادگی سے کلام کرتے اور اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ان کے قول و فعل میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہ ہوتی تھی مگر اِن کے چلنے پھرنے اور بولنے میں تکلف ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن کی اپنی شریعت جدا ہے جو اسلام سے الگ اور مخالف ہے۔بعض ایسے پیر بھی دیکھے گئے ہیں جو بالکل زنانہ لباس رکھتے ہیں یہاں تک کہ رنگین کپڑے پہننے کے علاوہ ہاتھوں میں چوڑیاں بھی رکھتے ہیں۔پھر ایسے لوگوں کے بھی بہت سے مرید پائے جاتے ہیں۔اگر کوئی ان سے پوچھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کب ایسی زنانہ صورت اختیار کی تھی تو اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔وہ ایک نرالی شریعت بنانا چاہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور اختیار سے ایک راہ بنانا چاہتےہیں۔