ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 286

ایک کوٹھا ہے اور اس کے ہمسایہ میں جو لوگ رہتے ہیں ان میں بعض جرائم پیشہ بھی ہیں وہ دنگہ فساد بھی کر لیتے ہیں اور اکثر ان میں ایسے مفسد طبع دیکھے جاتے ہیں کہ بعض خام طبیعت کے آدمی انہیں دیکھ کر متردّد ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کو دیکھ کر وہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہاں کی ساری آبادی کا یہی حال ہے اور کل عرب ایسے ہی ہیں۔اور اس طرح پر ان کے دل میں کئی قسم کے شبہات پیدا ہوجاتےہیں کیونکہ نہ وہاں وہ تجلی انوار و برکات کی دیکھتے ہیں جو انہوں نے بطور خود تجویز کر لی تھی اور نہ ملائک کی بستی پاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ خود خام طبع ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے وہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔یہ ان کی اپنی غلطی ہے جو وہ ایسا سمجھ لیتے ہیں اس میں خانہ کعبہ کا کیا قصور؟ یہ کوئی ضروری امر نہیں ہے کہ خانہ کعبہ میں سارے قطب اور ابدال اور اولیاء اللہ ہی رہتے ہوں۔خانہ کعبہ نے اس وقت بھی تو گذارہ کر ہی لیا تھا جب اس کے چاروں طرف بت پرست ہی بت پرست رہتے تھے اور خود خانہ کعبہ بتوں سے بھرا ہوا تھا۔اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ خانہ کعبہ انوار و برکات کی تجلی گاہ ہے اور اس کی بزرگی میں کوئی کلام اور شبہ نہیں۔پہلی کتابوں میں بھی اس کی بزرگی کا ذکر ہے۔مگر یہ تجلیات اور انوار و برکات اس ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آسکتے۔اس کے لیے دوسری آنکھ کی حاجت ہے۔اگر وہ آنکھ کھلی ہو تو یقیناً انسان دیکھ لے گا کہ خانہ کعبہ میں کس قسم کے برکات نازل ہو رہے ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ وہ بتوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کے زائرین میں ابو جہل جیسے شریر تھے۔پھر ان سے مقابلہ کر کے اگر ایسے خام طبع لوگ کوئی بات کہتے تو انہیں شرمندہ ہونا پڑتا کیونکہ اگر غور سے دیکھا جاوے تو وہ لوگ جو بیت اللہ کے جوار میں رہتے ہیں عوام سے ہزار ہا درجہ اچھے ہیں اور یہ امر مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے۔حقیقت میں کثرت کے ساتھ ان میں نیک اور اچھے لوگ ہیں اور ان کو دیکھ کر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ خانہ کعبہ کی مجاورت نے ان کو بہت بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔یہ تو قانون قدرت ہی نہیں کہ دنیا میں آکر فرشتے آباد ہوں۔پھر ایسا خیال کرنا کیسی غلطی اور نادانی ہے۔انسانیت کے لازم حال زلّات تو ضرور ہیں۔پس مکہ میں جب انسان آباد ہیں تو ان کی