ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 282

غایت سیر اولیاء ہے اور اسی مقام میں غیب سے باذن اللہ ایک نور سالک کے قلب پر نازل ہوتا ہے جو تقریر اور تحریر سے باہر ہے۔غلبہ شہود کی ایک ایسی حالت ہے کہ جو علم الیقین اور عین الیقین کے مرتبہ سے برتر ہے۔صاحب شہود تام کو ایک علم تو ہے مگر ایسا علم جو اپنے ہی نفس پر وارد ہوگیا ہے جیسے کوئی آگ میں جل رہا ہے۔سو اگرچہ وہ بھی جلنے کا ایک علم رکھتا ہے مگر وہ علم الیقین اور عین الیقین سے برتر ہے۔کبھی شہود تام بے خبری تک بھی نوبت پہنچا دیتا اور حالت سُکر اور بیہوشی کی غلبہ کرتی ہے۔اس حالت سے یہ آیت مشابہ ہے فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا(الاعراف:۱۴۴) لیکن حالت تام وہ ہے جس کی طرف اشارہ ہے مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى (النجم:۱۸) یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی۔پس غایت یہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرمایا ہے وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ(القیامۃ:۲۳،۲۴)۔واللہ اعلم بالصواب خاکسار مرزا غلام احمد۔۱۸؍مارچ ۱۸۸۳ ء مطابق ۸؍جمادی الاوّل ۱۳۰۰ھ ۱ ۲۶؍ستمبر۱۹۰۵ء (قبل دوپہر) یہاں رہیں اور ان ایام کی قدر کریں یہ بھی غنیمت ہے کہ انسان اس جگہ کی صحبت کو غنیمت سمجھے جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہاں آنے یا رہنے سے دنیاوی کاروبار میں ہرج ہوگا وہ بیمار ہے اسے اس بیماری کا علاج کرنا چاہیے۔دنیا کے کام تو کبھی ختم نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں جب تک خود انسان خدا سے توفیق پاکر ان کا خاتمہ نہ کر دے۔ابھی ہماری جماعت کو سمجھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں۔رفتہ رفتہ تحریک ہوتی ہے کسی مجمع میں کوئی تحریک ہوگئی اور کسی میں کوئی۔اس لیے جب تک یہاں انسان ایک عرصہ تک نہ رہے یا کثرت الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷،۸