ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 273

نے ایسا ہی چاہا اور اس لیے چاہا کہ تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت کا اظہار ہو اور ایک عاجز انسان جس کو غلطی سے خدا بنا لیا گیا ہے اس کی حقیقت دنیا پر کھل جاوے۔اللہ تعالیٰ کی برکات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض بند نہیں ہوں گے میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ ہم نیکی کے ثمرات کو محدود نہیں کرتے اور نہ خدا تعالیٰ کے فضل اور فیوض کی حد بندی کرتے ہیں کہ وہ اب ختم ہوگئے ہیں اور کسی دوسرے کو نہیں مل سکتے۔یہ بالکل غلط بات ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی بات کی کمی نہیں ہے اور کوئی شخص بھی جو مجاہدہ کرے اور اس راہ پر جو اس نے بتائی ہے چلے محروم نہیں رہ سکتا۔ہاں یہ بالکل سچ ہے کہ جو کچھ ملے گا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل اطاعت اور اتباع پر ملے گا۔اگر یہ مان لیا جاوے کہ بس اب خدا کے برکات کا دروازہ بند ہے تو اللہ تعالیٰ کو یا تو بخیل ماننا پڑے گا اور یا یہ کہنا پڑے گا کہ خاتمہ ہوگیا۔مگر سُبْـحَانَ رَبِّیْ وہ اس قسم کے نقصوں سے پاک ہے۔جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ کے حضور آتا ہے وہ خالی نہیں جاتا۔پاکیزہ قلب ہونے کی ضرورت ہے ورنہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۶،۷) کی تعلیم اور تاکید بے فائدہ ہو جاتی ہے۔اگر وہ انعام اکرام اب کسی کو ملنے ہی نہیں ہیں توپھر پانچ وقت اس دعا کے مانگنے کی کیا حاجت ہے؟ یہ بڑی غلطی ہے جو مسلمانوں میں پھیل گئی ہے۔حالانکہ یہی تو اسلام کا حسن اور خوبی تھی کہ اس کے برکات اور فیوض اور اس کی پاک تعلیم کے ثمرات تازہ بتازہ بہت مل سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کے ثمرات تمام صوفیوں اور اکابران امت کا یہی مذہب ہے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ کامل متبع ہوتا ہی نہیں جب تک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کو اپنے اندر نہ رکھتا ہو اور حقیقت میں یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ کامل اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لازم ہے کہ اس کے ثمرات اپنے اندر پیدا کرے۔جب ایک شخص کامل اطاعت کرتا ہے اور گویا اطاعتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں محو اور فنا ہو کر گم ہوجاتا ہے اس وقت اس کی حالت