ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 272

کھلے طور پر دہریہ ہوگئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دہریہ تو نہیں ہوئے مگر ان کے رنگ میں رنگین ہیں اور اسی وجہ سے دین میں سست ہو رہے ہیں۔اس کا علاج یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں تا ان کی معرفت زیادہ ہو اور صادقوں کی صحبت میں رہیں جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تصرف کے تازہ بتازہ نشان دیکھتے رہیں۔پھر وہ جس طرح پر چاہے گا اور جس راہ سے چاہے گا معرفت بڑھاوے گا اور بصیرت عطا کرے گا اور ثلج قلب ہو جائے گا۔یہ بالکل سچ ہے کہ جس قدر اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی عظمت پر ایمان ہوگا اسی قدر اللہ تعالیٰ سے محبت اور خوف ہوگا ورنہ غفلت کے ایام میں جرائم پردلیر ہوجائے گا۔اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی عظمت اور جبروت کا رعب اور خوف ہی دو ایسی چیزیں ہیںجن سے گناہ جل جاتے ہیں اوریہ قاعدہ کی بات ہے کہ جن اشیاء سے ڈرتا ہے پرہیز کرتا ہے۔مثلاً جانتا ہے کہ آگ جلا دیتی ہے اس لیے آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔یا مثلاً اگر یہ علم ہو کہ فلاں جگہ سانپ ہے تو اس راستہ سے نہیں گذرے گا۔اسی طرح اگر اس کو یہ یقین ہو جاوے کہ گناہ کا زہر اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت سے ڈرے اور اس کو یقین ہو کہ وہ گناہ کو ناپسند کرتا ہے اور گناہ پر سخت سزا دیتاہے تو اس کو گناہ پر دلیری اور جرأت نہ ہو۔زمین پر پھر اس طرح سے چلتا ہے جیسے مُردہ چلتا ہے۔اس کی روح ہر وقت خدا کے پاس ہوتی ہے۔یہ امور ہیں جو ہم اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ان کی ہی اشاعت ہمارا مقصود ہے۔میں یقیناً جانتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ انہیں امور کی پابندی سے مسلمان مسلمان ہوں گے اور اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا۔اگر اللہ تعالیٰ مسیح کی موت یا مسیح موعود ہونے کے امور کو ہماری راہ میں نہ ڈال دیتا تو ہمیں کچھ بھی ضرورت نہ تھی کہ عیسیٰ کہلاتے۔مگر میں کیا کر سکتا ہوں جب کہ خود اس نے مجھے اس نام سے پکارا اور اس کی اشاعت اور اعلان پر مجھے حکم دیا۔میں خوب جانتا ہوںکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے مجھے عیسیٰ کہلانے کی کچھ بھی حاجت نہ تھی اور منزل مقصود پر پہنچنے کےلیے اس کی کچھ بھی حاجت نہیں اور نہ قرآن شریف میں یہ لکھا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ