ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 268

ایمان سے شروع ہوتی ہے اور اس دنیا میں ہی اس کی لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ اور نہریں نظر آتی ہیں۔لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے اور ان کا ایک خارجی وجود نظر آجائے گا۔قرآن شریف سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان کی آبپاشی اعمال صالحہ سے ہوتی ہے بغیر اس کے وہ خشک ہوجاتا ہے۔پس یہاں دو باتیں بیان کی ہیں ایک یہ کہ وہ بہشت باغ ہے۔دوسرا ان درختوں کی نہروں سے آبپاشی ہوتی ہے۔قرآن شریف کو پڑھو اور اول سے آخر تک اس پر غور کرو تب اس کا مزا آئے گا کہ حقیقت کیا ہے؟ ہم مجاز اور استعارہ ہرگز پیش نہیں کرتے بلکہ یہ حقیقت الامر ہے۔وہ خدا تعالیٰ جس نے عدم سے انسان کو بنایا ہے اور جو خلق جدید پر قادر ہے وہ یقیناً انسان کے ایمان کو اشجار سے متمثل کر دے گا اور اعمال کو انہار سے متمثل کرے گا اور واقعی طور پر دکھاوے گا یعنی ان کا وجود فی الخارج بھی نظر آئے گا۔اس کی مختصر سی مثال یوں بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے انسان خواب میں عمدہ اور شیریں پھل کھاتا ہے اور ٹھنڈے اور خوشگوار پانی پیتا ہے اور فی الواقع وہ پھل اور آب سرد ہوتا ہے۔اس وقت اس کے ذہن میںکوئی دوسرا امر نہیں ہوتا۔پھلوںکو کھا کر سیری ہوتی اور پانی پی کر فی الواقع پیاس دور ہوتی ہے۔لیکن جب اٹھتا ہے تو نہ ان پھلوں کا کوئی وجود ہوتا ہے اور نہ اس پانی کا۔اسی طرح پر جیسے اس حالت میں اللہ تعالیٰ ان اشیاء کا ایک وجود پیدا کر دیتا ہے۔عالم آخرت میں بھی ایمان اور اعمالِ صالحہ کو اس صورت میں متمثل کر دیا جائے گا۔اسی لیے فرمایا ہے هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا(البقرۃ:۲۶) اس کے اگر یہ معنے کریں کہ وہ جنتی جب ان پھلوں اور میووں کو کھائیں گے تو یہ کہیں گے کہ یہ وہ پھل اور خربوزے یا تربوز یا انار ہیں جو ہم نے دنیا میںکھائے تھے تو یہ ٹھیک نہیں کیونکہ اس طرح پر تو وہ لذت بخش چیز نہیں ہو سکتے اور نعماء جنت کی حقارت ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً کشمیر میں جاوے اور وہاںکی ناشپاتیاں کھا کر کہے کہ یہ تو وہی ناشپاتیاں ہیںجو پنجاب میں کھائی تھیں تو صریح ان ناشپاتیوں کی حقارت ہے۔پس اگر بہشت کی نعماء کی بھی یہی مثال ہے تو یہ خوشی نہیں بلکہ ان سے بیزاری ہے۔اس لیے اس کا یہ مفہوم اور مطلب نہیں ہے۔بلکہ اس سے مراد