ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 257

ھم و غم اور مصائب کی برداشت نہیں کر سکتے۔ان کے دل کمزور ہوجاتے ہیں۔لیکن برخلاف اس کے مومن قوی دل ہوتا ہے۔اس لیے کہ اس کا بھروسہ خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے۔اس پر اگر مصائب آئیں تو وہ اس کو پست ہمت نہیں بناتیں بلکہ وہ مصائب میں اور بھی قدم آگے بڑھاتا ہے۔اس کا ایمان پہلے سے اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور سچ پوچھو تو ایمان کا مزا اور لذت انہیں دنوں میں آتی ہے اور ایمان انہیں ایام کے لیے ہوتا ہے۔صحت کی حالت میں جبکہ نہ کوئی مالی غم ہو نہ جانی بلکہ ہر قسم کی آسائش اور امن ہو اس وقت کافر اور غیر کافر کی حالت یکساں ہو سکتی ہے لیکن مصیبت اور بیماری اور دوسرے مشکلات میں ان باتوں کا امتحان ہوجاتا ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ سے قوی تعلق رکھتا ہے اور اس کی قدرتوں پر ایمان لاتا ہے اور کون اس کا شکوہ کرتا اور اس سے ناراض ہوتا ہے؟ ایمان کا کامل معیار مصیبت اور دکھ ایمان کا ایک کامل معیار ہے اسی سے پہچانا جاتا ہے کہ کون صبر کرتا ہے۔صبر کیا ہے؟ یہ بھی ایمان ہی کا نتیجہ ہے۔مصیبتوں میں جب مومن صبر کرتا ہے تو یہ صبر بھی ایک نئے رنگ کا صبر معلوم ہوتا ہے کہ کافر اس صبر میں مشابہت نہیں رکھتا۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کا معاملہ بھی ایک نئے رنگ کا معاملہ ہوتا ہے۔اور سچ تو یہ ہے کہ ایک نیا خدا معلوم ہوتا ہے۔اس لیے کہ اس پر ایمان لا کر معرفت میں ترقی ہوتی ہے۔جب مشکلات اور مصائب کی وجہ سے مومن دعائیں کرتا ہے تو دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو وہ مصائب بجائے خود اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہیں۔دوسرے ان دعاؤں کے ذریعہ ان سے نجات بھی ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کی قدرتوں پر ایمان بڑھتا ہے۔مصیبت سے انسان کی زندگی کبھی خالی نہیں رہ سکتی۔کسی نہ کسی رنگ میں کوئی نہ کوئی مصیبت انسان پر آ ہی جاتی ہے۔خواہ بیماری کے رنگ میں ہو خواہ عزت و آبرو کے متعلق ہو یامال و اسباب کی صورت میں ہو۔لیکن مومن کی مصیبت اس پر سہل ہوجاتی ہے اور اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔وہ اس مصیبت کو اپنے لیے خدا تعالیٰ سے تعلقات بڑھانے کا ایک ذریعہ یقین کرتا ہے اور فی الحقیقت ایسا ہی ہوتا ہے مگر وہی مصیبت بے ایمانوں