ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 18

اور رہے گی۔قرآن کریم کا ابتدا بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سے ہے۔رحمٰن بے مانگے دینے والا اور رحیم محنت کو نہ ضائع کرنے والا۔پس اس وقت رحمانیت اور رحیمیت کہاں گئی؟ سوچو تو سہی کہ یہ اس کے مناسب حال ہے یا کیا؟ اصل میں جب انسان تعصب پر آتا ہے تو آنکھ دھندلی ہوجاتی ہے اور جب اس میں ترقی کرتا ہے تو وہ نور چھین لیا جاتا ہے۔پس ہدایت پانے کا طریق اشتہار بازی نہیں۔ان لوگوں سے پوچھو کہ تم ایک دفعہ بھی میرے پاس آئے ہو اور اپنے اعتراضات کا جواب پوچھا ہے یا کم سے کم میری تصانیف کو ہی دیکھا ہے؟ تو جواب دیں گے کہ میاں ہم کو ان باتوں کی فرصت نہیں۔پھر تم نے جھٹ دجّال کا فتویٰ کیوں لگا دیا؟ پھر ہم نے دین میں کونسی تحریف کی ہے۔تم منہ سے نماز اور روزہ کا نام لیتے ہو اور میں کہتا ہوں کہ ان کی روحانیت لو۔صرف میں ہی نہیں کہتا بلکہ وہ خدا کہتا ہے جس نے مجھے مامور کیا ہے اور یہ اس لیے کہ تمہارے پوست میں کیفیت داخل ہو جاوے۔ہاں تمہارے ہمارے درمیان مسیح کا جھگڑا ضرور ہے لیکن خدا کی کلام سے زیادہ سچا گواہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ہمیں دوسرے کے قول سے کیا غرض ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول حق اور سچ ہیں مگر جو قرآن کریم کے خلاف نہ ہوں۔پس ہمیں ایمان محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے قصوں پر جو احادیث میں درج ہیں قرآن کریم کو مقدم رکھیں۔پس ہم تو قرآن کریم کو ترجیح دیں گے اور جو احادیث قوی اور صحیح ہیں وہ ضرور قرآن کے ساتھ ہیں اور ہمارے دعوے میں ہماری مؤید ہیں۔پس ہمارا اور ان لوگوں کا اور کوئی اختلاف نہیں بجز اس کے کہ یہ پوست پر قناعت کرتے ہیں اور ہم مغز کو چاہتے ہیں۔مسیح کی موت کا قرآن نے خود فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ میں فیصلہ کر دیا ہے۔اگر ہم قبول کر لیں کہ مسیح ناصری آج تک زندہ ہے تو ہمیں یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ عیسائی بھی آج تک راہِ راست پر ہیں۔اور اس کی قرآن کریم خود تردید کرتا ہے تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ(مریم:۹۱) الآیۃ میں۔مجھے میرے خدا نے ہزارہا وحیوں میں مامور کیا ہے اور وہ وہی بات ہے جو تیرہ سو برس پہلے سے لکھی ہوئی تھی۔ہمارا اور ان کا کوئی جھگڑا نہیں اگر شرم و حیا اور ایمان ہو۔یہ بھی نہ سہی۔کیا