ملفوظات (جلد 7) — Page 17
تھے، لیکن لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔نہ تو یہ ہارتے ہیں اور نہ خدا ہارنے والا ہے۔آخر تم جانتے ہو کہ نتیجہ کیا ہوگا یہی کہ وہ پاک خدا جیتے گا۔باوجود اس قدر کھلے نشانات کے جواب یہ دیتے ہیں کہ تیس دجّالوں میں سے یہ بھی ایک دجّال ہے۔او کم بختو! تمہارے حصہ میں دجّال ہی دجّال رہ گئے ہیں؟ بیرونی اور اندرونی بلائیں تم پر آئیں اور خدا کی طرف سے بھی آیا تو دجّال ہی آیا۔اوّل تو تم خود بخود مرتے جاتے تھے۔اب ایسی حالت میں خدا نے تم سے یہ سلوک کیا کہ مرتے کو مارنے کی تجویز ٹھہرائی۔کیا خدا کو تم سے کوئی ایسی ہی سخت عداوت تھی کہ سختی پر سختی کر رہا ہے؟ یہ انسانی غلطیاں ہیں تم لوگ ان سے ہوشیار رہو۔خدا بڑا کریم و رحیم ہے۔جب کسی کے کپڑے پر ہفتہ گذر جاتا ہے تو اس کو فکر لگ جاتی ہے کہ اس کو صاف کرایا جاوے۔پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا پر سو کی جگہ ایک سو بیس برس گذر گئے پر خدا نے تجدید دین کی کوئی تجویز نہ کی اور بجائے تجدید کے دجّال بھیج کر اس کی تخریب کی۔اس وقت ۳۰ لاکھ مسلمان عیسائی ہوچکا ہے۔یہ وہ قوم تھی اگر اس میں سے ایک شخص بھی عیسائی ہوتا تھا تو حشر بپا ہو جاتا تھا۔دوسری طرف ایک اور خبیث قوم نے سر اٹھایا ہے وہ مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر آریہ بنا رہی ہے۔مگر ان ہمارے مسلمانوں کو یہی خیال آتا ہے کہ ابھی ہمارے اندر دجّال ہی پیدا ہوا ہے۔اور خدا نے بھی ان کے ساتھ یہ دھوکا کیا کہ دجّال کو صدی کے سر پر بھیجا تاکہ انکی رہی سہی امید بھی باقی نہ رہے۔معلوم ہوا کہ تمہارے اندر بڑے بڑے خبث اور گناہ پوشیدہ ہیںجس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے۔خدا تعالیٰ نے تو فرمایا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔یعنی جب اس کے معانی میں غلطیاں وارد ہوں گی تو اصلاح کے لیے ہمارے مامور آیا کریں گے۔پس تم میرے اوپر خیال مت کرو بلکہ صدی کے ابتدا اور بیرونی حملوں اور اندرونی اعمال کو دیکھ کر تم خود غور اور فکر کرو کہ آیا دجّال کی ضرورت ہے یا مہدی اور مسیح کی؟ تعصب بری بلا ہوتی ہے۔تعصب والوں نے تو کسی رسول کو بھی نہیں مانا اور ان کو دوکاندار قرار دیا ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف بلاتے رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ضرور ہمیشہ ساتھ رہی ہے