ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 246

اور عہدہ پاتا ہے اور قوم میں ایک عزت دیکھتا ہے وہ کیا سمجھ سکتا ہے کہ دین کیا چیز ہے؟ جو گروہ نمازوں میں تخفیف کرنی چاہتا ہے اور روزوں کو اڑانا چاہتا ہے اور قرآن شریف کی ترمیم کرنے کا خواہشمند ہے اگر اسے ترقی ہو تو تم سمجھ لو کہ انجام کیا ہو؟ اس کے ضمن میں آپ نے نواب محمد حیات خاں مرحوم کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پر قبل از وقت مجھے اس کی بحالی کی اطلاع دی جس کی میں نے اس کو بھی خبر دے دی تھی۔لیکن جب بحال ہوگیا تو پھر وہ ساری باتیں جو معطلی کے زمانہ میں تھیں بھول گئیں۔۱ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء حقِ محنت کی ادائیگی فرمایا۔خدا تعالیٰ کی طلب میں جو شخص پوری کوشش نہیں کرتا وہ بھی کافر ہے۔ہر ایک چیز کو جب اس کی حد مقررہ تک پہنچایا جاتا ہے تب اس سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔جیسے اس زمین میں چالیس یا پچاس ہاتھ کھودنے سے کنواں طیار ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص صرف چار پانچ ہاتھ کھود کر چھوڑ دے اور کہہ دے کہ یہاں پانی نہیں ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس شخص نے حق محنت کا ادا نہیں کیا۔(قبل از ظہر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت فرمایا۔یہ جو قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ( الانعام:۹۱) پس ان کی یعنی گذشتہ نبیوں کی جن کا اوپر ذکر آیا ہے اقتدا کر۔اس اور عہدہ پاتا ہے اور قوم میں ایک عزت دیکھتا ہے وہ کیا سمجھ سکتا ہے کہ دین کیا چیز ہے؟ جو گروہ نمازوں میں تخفیف کرنی چاہتا ہے اور روزوں کو اڑانا چاہتا ہے اور قرآن شریف کی ترمیم کرنے کا خواہشمند ہے اگر اسے ترقی ہو تو تم سمجھ لو کہ انجام کیا ہو؟ اس کے ضمن میں آپ نے نواب محمد حیات خاں مرحوم کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پر قبل از وقت مجھے اس کی بحالی کی اطلاع دی جس کی میں نے اس کو بھی خبر دے دی تھی۔لیکن جب بحال ہوگیا تو پھر وہ ساری باتیں جو معطلی کے زمانہ میں تھیں بھول گئیں۔۱ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء حقِ محنت کی ادائیگی فرمایا۔خدا تعالیٰ کی طلب میں جو شخص پوری کوشش نہیں کرتا وہ بھی کافر ہے۔ہر ایک چیز کو جب اس کی حد مقررہ تک پہنچایا جاتا ہے تب اس سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔جیسے اس زمین میں چالیس یا پچاس ہاتھ کھودنے سے کنواں طیار ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص صرف چار پانچ ہاتھ کھود کر چھوڑ دے اور کہہ دے کہ یہاں پانی نہیں ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس شخص نے حق محنت کا ادا نہیں کیا۔(قبل از ظہر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت فرمایا۔یہ جو قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ( الانعام:۹۱) پس ان کی یعنی گذشتہ نبیوں کی جن کا اوپر ذکر آیا ہے اقتدا کر۔اس اور عہدہ پاتا ہے اور قوم میں ایک عزت دیکھتا ہے وہ کیا سمجھ سکتا ہے کہ دین کیا چیز ہے؟ جو گروہ نمازوں میں تخفیف کرنی چاہتا ہے اور روزوں کو اڑانا چاہتا ہے اور قرآن شریف کی ترمیم کرنے کا خواہشمند ہے اگر اسے ترقی ہو تو تم سمجھ لو کہ انجام کیا ہو؟ اس کے ضمن میں آپ نے نواب محمد حیات خاں مرحوم کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پر قبل از وقت مجھے اس کی بحالی کی اطلاع دی جس کی میں نے اس کو بھی خبر دے دی تھی۔لیکن جب بحال ہوگیا تو پھر وہ ساری باتیں جو معطلی کے زمانہ میں تھیں بھول گئیں۔۱ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء حقِ محنت کی ادائیگی فرمایا۔خدا تعالیٰ کی طلب میں جو شخص پوری کوشش نہیں کرتا وہ بھی کافر ہے۔ہر ایک چیز کو جب اس کی حد مقررہ تک پہنچایا جاتا ہے تب اس سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔جیسے اس زمین میں چالیس یا پچاس ہاتھ کھودنے سے کنواں طیار ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص صرف چار پانچ ہاتھ کھود کر چھوڑ دے اور کہہ دے کہ یہاں پانی نہیں ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس شخص نے حق محنت کا ادا نہیں کیا۔(قبل از ظہر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت فرمایا۔یہ جو قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ( الانعام:۹۱) پس ان کی یعنی گذشتہ نبیوں کی جن کا اوپر ذکر آیا ہے اقتدا کر۔اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر گذشتہ انبیاء ہوئے اور انہوں نے مخلوق کی ہدایت مختلف پہلوؤں سے کی اور مختلف قسم کی ان میں