ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 245

تھے۔اس طرح اس زمانہ میں بھی معاش کے بعض ذریعے ہیں جن میں سے ایک یہ زبان بھی ہے جو معاش کا ذریعہ سمجھی گئی ہے لیکن وہ زبان جو خدا کی زبان ہے اسے اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کی کنجی بنایا ہے۔جب انسان تعصب سے پاک ہو کر تدبر سے قرآن شریف کو دیکھے گا اور اعراض صوری اور معنوی سے باز رہے گا بلکہ دعاؤں میں لگا رہے گا تب ترقی ہوگی۔یہ لوگ جو قومی ترقی قومی ترقی کا شور مچا رہے ہیں میں ان کی آوازوں کو سن کر حیران ہوا کرتا ہوں کہ شاید ان کو مرنا ہی بھولا ہوا ہے اور ناپائیدار زندگی کو انہوں نے مقدم کر لیا ہے۔یہ چاہتے ہیں کہ یورپ جیسے امیر کبیر بن جاویں۔ہم منع نہیں کرتے کہ حد مناسب تک کوئی کوشش نہ کرے۔مگر افراط تومذموم امر ہے۔افسوس ان ترقی چاہنے والوں کے نزدیک عملی طور پر ہر ایک بدی حلال ہے یہاں تک کہ زنا بھی جیسا کہ یورپ کا عملی طرز بتا رہا ہے۔اگر یہی ترقی ہے تو پھر ہلاکت کیا ہوگی؟ پس تم اپنی نیتوں کو صاف کرو۔اللہ تعالیٰ کو رضا مند کرو۔دعاؤں میں لگے رہو اور دین کی اشاعت کے لیے دعا کرو۔پھر منع نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس قسم کی استعداد اور مناسبت معاش کے لیے دی ہے اس سے کام لو۔زراعت ہو یا ملازمت یا تجارت کرو مگر یہ نہیں کہ اس کو مقصود بالذات سمجھ کر دل اس سے لگا لو۔بلکہ دل اس سے ہمیشہ اداس رکھو اور اسے ایک ابتلا سمجھو اور دعا کرتے رہو کہ خدا تعالیٰ وہ زمانہ لاوے کہ فراغت کا زمانہ یادِ الٰہی کے لیے میسر آوے۔میری غرض اور تعلیم تو یہ ہے جو اس پر مخالفت کرے اس کا اختیار ہے ہنسی کرے اختیار ہے مگر حق یہی ہے۔جو لوگ آزاد مشرب ہیں وہ ایسی باتوں پر سخت ہنسی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ اطفال کے درجہ پر ہیں اور ہمیں تیرہ سو برس پیچھے لے جاتے ہیں مگر جن میں تقویٰ ہو اور موت کو یاد رکھتے ہیں وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان دونوں میں سے حق پر کون ہے؟ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ جب تک صحت ہے اس وقت تک یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں لیکن جب ذرا مبتلا ہوتے ہیں تو ہوش میں آجاتے ہیں۔نیچری مذہب کے لیے اسی قدر مستحکم ہوگا جس قدر دنیوی آسائش و آرام میسر ہوگا جس قدر مصائب ہوں گے ڈھیلا ہوتا جائے گا۔جو شخص دنیوی وجاہت