ملفوظات (جلد 7) — Page 244
ترقی کرنے کے گُر فرمایا۔لوگ چاہتے ہیں کہ ترقی ہو مگر وہ نہیں جانتے کہ ترقی کس طرح ہوا کرتی ہے۔دنیاداران نے تو یہی سمجھ لیا ہے کہ یورپ کی تقلید سے ترقی ہوگی۔مگر میں کہتا ہوں کہ ترقی ہمیشہ راستبازی سے ہوا کرتی ہے۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے نمونہ رکھا ہوا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کا نمونہ دیکھو۔ترقی اسی طرح ہوگی جیسے پہلے ہوئی تھی۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ پہلے جو ترقی ہوئی وہ صلاح اور تقویٰ اور راستبازی سے ہوئی تھی۔وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے جویا ہوئے اور اس کے احکام کے تابع ہوئے۔اب بھی جب ترقی ہوگی اسی طرح ہوگی۔سید احمد خاں قومی قومی کہتے تھے۔مگر افسوس ہے کہ وہ ایک بیٹے کی بھی اصلاح نہ کر سکے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دعویٰ کرنا اور چیز ہے اور اس دعویٰ کی صداقت کو دکھانا اور بات۔اصل یہی ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں سکھایا ہے۔جب تک مسلمان قرآن شریف کے پورے متبع اور پابند نہیں ہوتے وہ کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتے۔جس قدر وہ قرآن شریف سے دور جا رہے ہیں اسی قدر وہ ترقی کے مدارج اور راہوں سے دور جا رہے ہیں۔قرآن شریف پر عمل ہی ترقی اور ہدایت کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ نے تجارت، زراعت اور ذرائع معاش سے جو حلال ہوں منع نہیں کیا۔مگر ہاں اس کو مقصود بالذات قرار نہ دیا جاوے بلکہ اس کو بطور خادمِ دین رکھنا چاہیے۔زکوٰۃ سے بھی یہی منشا ہے کہ وہ مال خادمِ دین ہو۔قومی ترقی کا راز خوب یاد رکھو کہ اصل طریق ترقی کا یہی ہے۔جب تک قوم اللہ تعالیٰ کے لیے قدم نہیں اٹھاتی اور اپنے دلوں کو پاک و صاف نہیں کرتی کبھی ممکن نہیں کہ یہ قوم ترقی کر سکے۔یہ خیال محض غلط ہے کہ صرف انگریزی پڑھنے اور انگریزی لباس پہننے اور شراب پینے اور فسق و فجور میں مبتلا ہونے سے ترقی ہو سکتی ہے۔یہ تو ہلاک کرنے کی راہ ہے۔نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جو قوم رہتی تھی کیا وہ معاش اور آسائش کے سامان نہ رکھتے تھے؟ کیا وہ انگریزی ہی پڑھے ہوئے تھے؟ اسی طرح لوط علیہ السلام کے زمانہ میں بھی معاش کے ذریعے