ملفوظات (جلد 7) — Page 238
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۸ جلد ہفتم بیروت وغیرہ میں بھی ایسی تحریریں شائع کی جاتی ہیں یہاں تک کہ لغت تک کی کتابوں میں شرارتیں کی جاتی ہیں۔ اس مقام پر حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ حضور فقہ اللغة ثعلبی کی ایک کتاب ہے اسے عیسائیوں نے چھاپا ہے۔ اس میں الْحَمْدُ لِلهِ وَ الصَّلوةُ لِآلِهِ لکھ دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی نکال دیا ہے۔ یہاں تک دشمنی مد نظر ہے۔ پھر جاپان میں اشاعت اسلام کے سلسلہ پر فرمایا۔ میں دوسری کتابوں پر جو لوگ اسلام پر لکھ کر پیش کریں بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ ان میں خود غلطیاں پڑی ہوئی ہیں۔ ان غلطیوں کو ساتھ رکھ کر اسلام کے مسائل جاپان یا دوسری قوموں کے سامنے پیش کرنا اسلام پر ہنسی کرانا ہے۔ اسلام وہی ہے جو ہم پیش کرتے ہیں ۔ ہاں اشاعت اسلام کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے اور اس پر اگر وہ روپیہ جو بینکوں کے سود سے آتا ہے خرچ کیا جاوے تو جائز ہے کیونکہ وہ خالص خدا کے لیے ہے۔ خدا تعالیٰ کے لیے وہ حرام نہیں ہے۔ جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ کسی جگہ کا سکہ و بارود ہو وہ جہاد میں خرچ کرنا جائز ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ بلا تکلف سمجھ میں آجاتی ہیں کیونکہ بالکل صاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سور کو حرام کیا ہے لیکن بائیں فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ (البقرة : ۱۷۴) جب اضطراری حالت میں محض اپنی جان بچانے کی خاطر سور کا کھانا جائز ہے تو کیا ایسی حالت میں کہ اسلام کی حالت بہت ضعیف ہو گئی ہے اور اس کی جان پر آہنی ہے اس کی جان بچانے کے لیے محض اعلائے کلمہ اسلام کے لیے سود کا روپیہ خرچ نہیں ہو سکتا ؟ میرے نزدیک یقینا خرچ ہو سکتا ہے اور خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا ظاہر کرنا مقصود خاطر ہو فرمایا۔ دنیا تو ایسی ہے کہ کار دنیا کسے تمام نہ کرد۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ایک سربستہ راز ہے جو کسی پر نہیں کھلا کہ موت کس وقت آجاوے۔ پھر جب موت آگئی تو سب مال و اسباب یہاں کا یہاں ہی رہ جاتا ہے اور بعض اوقات اس کے وارث وہ