ملفوظات (جلد 7) — Page 16
پوجا کی جاوے بلکہ اس لیے کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے ظِل کے نیچے آجاویں گے۔جیسے فرمایا اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰلِ عـمران:۳۲) یعنی میری پیروی میں تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔آنحضرت پر محبوب ہونے کی بدولت یہ سب اکرام ہوئے مگر جب کوئی اور شخص محبوب بنے گا تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا؟ اگر اسلام ایسا مذہب ہے تو سخت بیزاری ہے ایسے اسلام سے۔مگر ہرگز اسلام ایسا مذہب نہیں۔آنحضرت تو وہ مائدہ لائے ہیں کہ جو چاہے اس کو حاصل کرے۔وہ نہ تو دنیا کی دولت لائے اور نہ مہاجن بن کر آئے تھے۔وہ تو خدا کی دولت لائے تھے اور خود اس کے قاسم تھے۔پس اگر وہ مال دینا نہیں تھا تو کیا وہ گٹھڑی واپس لے گئے؟ پر سچ ہے جس اندھے کے پاس روشنی موجود نہیں وہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں روشنی رکھتا ہوں اور تقسیم کر سکتا ہوں۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِيْلًا(بنی اسـرآءیل :۷۳) انبیاء تو علیٰ وجہ البصیرت ہوتے ہیں۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ بصیرت کسی کو نہیں ملے گی تو گویا یہ خود اس دنیا سے اندھے ہی جاویں گے۔اگر ان کا ایمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سچا ہوتا تو یہ یقین رکھتے کہ وہ آسمانی مال تقسیم کرنے آئے تھے؟ اور ان کا عقیدہ نہ ہوتا کہ یہ امت تمام امتوں سے فوقیت حاصل کرے گی؟ حالانکہ مانتے ہیں کہ حضرت موسٰی کی ماں کو وحی ہوتی تھی۔اب بتاؤ کہ ان کے مردوں کو بھی کبھی ایسی وحی ہوئی ہے؟ لاہور میں ایک مولوی سے میری بحث ہوئی محدث کے لفظ پر کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ محدث وہ ہے جو خدا سے مکالمہ کر سکے اور یہ بات حضرت عمرؓ کے متعلق تھی تو اس مولوی نے جواب دیا کہ چونکہ اسلام کو آنحضرت کے بعد مکالمہ الٰہی نصیب نہیں۔اس لیے حضرت عمرؓ کویہ عہدہ نصیب نہیں ہوا۔گویا اس امت میں تو دجّال ہی آتے رہیں گے۔مسیح موعود کی بعثت مسیح کے متعلق جس زمانہ کی اطلاع احادیث وغیرہ میں دی گئی ہے وہ یہی زمانہ ہے۔سورۂ نور اور بخاری میں مِنْکُمْ کا لفظ صاف ہے۔آثار تمام نمو دار ہوگئے ہیں۔کسوف و خسوف رمضان میں ہوگیا۔طاعون آگئی۔یہ کیسے کھلے نشان