ملفوظات (جلد 7) — Page 228
لوگوں کے مراتب اور درجات کیا ہیں؟ اسی نے مجھے الہام کیا ہےکہ اِنِّيْ فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۔اگر سارا زمانہ ایک طرف ہو جاوے اور میں اکیلا ایک طرف رہ جاؤں تب بھی خدا کے الہام کے بالمقابل کسی کا کہنا نہیں مان سکتا۔اگر امام حسین کو یہ وحی ہوئی تھی کہ وہ قیامت تک سب سے افضل ہیں تو دوسری وحی اسی خدا نے اس کے برخلاف مجھے کس طرح سے کر دی؟ اگر یہ وحی شیطانی ہے تو دن رات خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اس کے ساتھ کیوں ہے؟ عجب خدا ہے جو پچیس تیس سال سے مفتری کو مہلت دیتا ہے بلکہ دن بدن اس کے سلسلہ کو ترقی دیتا ہے اور اس کے مخالفوں کو ہلاک کرتا ہے۔اس طرح سارے انبیاء کی صداقت پر شبہ پڑ سکتا ہے۔افترا اور کذب تو ایک مکروہ اور غیر طبعی امر ہے۔انسان کب تک اس کو اختیار کر سکتا ہے۔ہمارے دشمن تو ہمیشہ منتظر رہتے ہیں کہ یہ اب مارے گئے اور اب ہلاک ہوئے مگر ہر دفعہ ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے ہر طرح سے ایذا دیتے ہیں قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ہمارے قتل کے جواز کے فتوے دیتے ہیں۔خون کے مقدمات بناتے ہیں مگر خدا ہر امر میں بقول ان کے کاذب کی طرفداری کرتا ہے۔ہماری دشمنی کے سبب ان کی شریعت بھی بدل گئی۔خدا جو صادق کا معاون ہوا کرتا تھا اب ان کے نزدیک کاذب کا معاون ہونے لگا۔یہ عداوت ان کو کشاں کشاں کہاں لے جائے گی؟ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ عناد ان کو رفتہ رفتہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے حلقہ سے باہر نکال دے گا۔صادق کے لیے ایک امر ما بہ الامتیاز ہوتا ہے اگر وہ نہیں تو انبیاء کی صداقت مشتبہ ہو جاتی ہے۔۱ ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۵ء اس زمانہ کے لوگوں کی حالت فرمایا۔اگر بعض لوگ خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے دعا کی تھی تو بارش ہوگئی۔مگر ان کی یہ دعائیں قابل قدر نہیں