ملفوظات (جلد 7) — Page 227
صفات کے بر خلاف ہے ان کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں۔ادریس علیہ السلام کا آسمان پر جانا صدیق حسن خاں نے ادریسؑ کے آسمان پر جانے کی تکذیب کی ہے اور لکھا ہے کہ اگر وہ آسمان پر گیا تو اس کی موت کس طرح سے ہوگی کیونکہ سب کا مرنا زمین پر ضروری ہے تعجب ہے کہ مسیح کے معاملہ میں یہ بات اس کو سمجھ نہیں آئی۔اگر خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو موت نہیں دی اور ویسے ہی آسمان پر اٹھا لیا ہے تو لفظ رفع کا قرآن شریف میں کافی تھا۔رفع سے پہلے توفّی کے لفظ لانے کی پھر کوئی ضرورت نہ تھی آسمان پر جانے کا مفہوم تو لفظ رفع سے ہی پوری طرح نکل سکتا تھا۔غالی اہل تشیع کے ایک عقیدہ کی تردید بعض اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امام حسین آنحضرتؐسےافضل ہیں اور اس پر دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ امام حسین کو شہادت کا درجہ ملا جو آنحضرتؐکو نہ ملا تھا۔یہ ایک غلط خیال ہے کیونکہ شہادت صرف امام حسین کو نصیب نہیں ہوئی بلکہ ہزارہا اصحاب کو ہوئی۔اس میں سب برابر ہیں اور آنحضرتؐکا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(المآئدۃ:۶۸) اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہوگا۔علاوہ ازیں فضیلت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے۔خدا کی پاک کتاب نے آنحضرتؐکو سب سے افضل قرار دیا۔امام حسین نے کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں سب سے افضل ہوں۔نہ ان کی کسی تحریر سے اور نہ کسی تقریر سے ایسی بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ تمام امت سے افضل ہیں۔اور اگر ان کا کوئی ایسا دعویٰ ہوتا تب بھی ماننے کے قابل نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے بر خلاف تھا۔امام حسین کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت ہے جنہوں نے صدق اور وفا کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جن کا تعلق شدید بوجہ استقامت سبقت لے گیا تھا۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ