ملفوظات (جلد 7) — Page 218
کہ ان کو رؤیت کی توفیق نہیں ملی ہے۔جس پر اس جہان کی کھڑکی نہیں کھلی وہ کیا دیکھے گا؟ پنڈت دیانند نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ نری اٹکل ہے۔جیسا ایک اندھا کسی کو ہاتھ لگا کر اس کے متعلق بیان کرتا ہے اسی طرح سے انہوں نے کیا ہے۔محض اپنے مذہب کے تعصب کی جہالت سے کہا جو کچھ کہا۔اس کو وہ آنکھیں نہیں تھیں جو وہ اس عالم کے عجائبات کو مشاہدہ کرتا۔اس کو بالکل خبر نہیں کہ خدا کیا ہے اور اس کے صفات کیا ہیں؟ یہ بھی یاد رکھو کہ جس چیز کے صفات دور ہو جائیں تو وہ چیز بھی جاتی رہتی ہے۔پھول کی صورت نوعی بھی جاتی رہے گی جب اس کے خواص اور صفات نہ ہوں۔اسی طرح پر آریوں کے قول کے بموجب پرمیشر ہی کا وجود نہیں رہتا جبکہ یہ مان لیا جاوے کہ اس کے صفات نہیں کیونکہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی سے بولتا بھی ہے جب بولتا نہیں تو سننے پر کیا دلیل ہوگی۔اسی طرح قدرت بھی باطل ہوئی۔خدا تعالیٰ کے صفات قدیم سے چلے آتے ہیں۔جب ایک صفت باطل ہوئی تو ممکن ہے کوئی دوسری بھی باطل ہو جاوے۔سچا مذہب وہی ہے جو زندہ خدا کو پیش کرے اور وہ اسلام ہے۔ہمارے مخالف اسلام کا اقرار کرتے ہیں مگر افسوس ہے کہ وہ اسلام کی اس قابل قدر خوبی سے انکار کرتے ہیں۔جب سے اسلام ہوا ہے اس میں ہمیشہ عملی نمونے رہے ہیں لیکن وہ انکار کرتے ہیں کہ اب نہیں۔افسوس! فرمایا۔ایک اور بڑی خرابی ہوتی ہے کہ انسان میں علم ہو سمجھ ہو پھر دنیا کے خیال اس پر غالب ہو جائیں تو اس طرح پر دینی سر گرمی نہیں رہتی وہ مردہ یا منافق ہوجاتا ہے اس لیے اس جماعت میں ملنے والا تو وہ ہوگا جو ہر قسم کے مصائب اور شدائد کا نشانہ بننے کو آمادہ ہو۔لیکن محبت ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے۔جیسے ایک مست اونٹ پر جس قدر بوجھ چاہو لاد دو۔فرمایا۔قوی القلب آدمی ہو تو یہی نہیں کہ وہ مخالفوں کے شور و شر سے امن پاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس میں جذب اور کشش رکھ دیتا ہے۔۱