ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 219

۱۹اگست۱۹۰۵ء ایک شخص نے اپنا خواب عرض کیا کہ فلاں آدمی نے مجھے خواب میں ایسا کہا۔فرمایا۔خواب کا تعین ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا۔بعض دفعہ جس کو خواب میں دیکھا جاتا ہے اس سے مراد کوئی اور شخص ہوتا ہے۔مسیح علیہ السلام کے بارہ میں قتل و صلیب کی نفی کسی شخص نے اعتراض کیا کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کے متعلق اللہتعالیٰ نے فرمایا ہے وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ (النسآء : ۱۵۸) نہ قتل کیا اور نہ صلیب دیا۔اس میں قتل کا ذکر پہلے ہے اور صلیب پیچھے۔حالانکہ پہلے کسی کو صلیب پر چڑھایا جاتا ہے اور بعد میں صلیب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قتل ہوجائے۔برخلاف اس کے قرآن شریف میں قتل کا ذکر پہلے ہے اور صلیب کا پیچھے ہے۔فرمایا۔اوّل تو یہود کا اعتراض جو قرآن شریف میں درج ہے وہ یہی ہے کہ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ (النسآء : ۱۵۸) یعنی ہم نے مسیح کو قتل کیا۔چونکہ انہوں نے قتل کا لفظ بولا تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے پہلے لفظ قتل کی ہی نفی کی۔دوم یہ کہ یہود میںدو روایتیں تھیں۔ایک یہ کہ ہم نے یسوع کو تلوار سے قتل کر دیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس کو صلیب پر مارا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہر دو کی جدا جدا نفی کی۔تیسری بات یہ ہے کہ یہودیوں کی بعض پرانی کتب میںیہ بھی لکھا ہے کہ یسوع کو پہلے سنگسار کیا گیا تھا اور جب وہ مر گیا تو بعد میں اس کو کاٹھ پر لٹکایا گیا یعنی پہلے قتل ہوا اور پیچھے صلیب۔پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی نفی کی اور فرمایا کہ یہود جھوٹھے ہیں۔نہ حضرت مسیح ان کے ہاتھوں قتل ہوئے اور نہ صلیب کے ذریعے سے مارے گئے۔اسلام کی صداقت پر ایک بھاری دلیل فرمایا۔خدا تعالیٰ کے صفات کا جو کامل اکمل نقشہ اسلام نے پیش کیا ہے وہ اسلام کی صداقت پر ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔باقی تمام مذاہب اس معاملہ میں ناقص ہیں کہ وہ خدائی