ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 216

مذاہب کا تفرقہ شروع ہوتا ہے۔اب جس مذہب نے حصولِ نجات کے عمدہ وسائل پیدا کئے ہیں اور جو مذہب تاثیر اور جذب اور کشش اپنے اندر رکھتا ہے وہ سچا ہے لیکن جس مذہب کے اندر وہ تاثیر اور جذب نہیں جس کی عملی تاثیروں کا کوئی نمونہ پایا نہیں جاتا وہ خواہ خدا تعالیٰ کو واحد ہی کہے لیکن جھوٹا ہے۔یہ توحید اس کی محض قال کے رنگ میں ہے۔حالی کیفیت اس میں پائی نہیں جاتی۔حالی کیفیت تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ غیر کا وجود بالکل نابود ہوجاوے۔اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنے والا ہو۔اسی سے ہر ایک امید و خوف ہو۔جب تک یہ بات عملی طور پر پیدا نہ ہو نرے قال سے کچھ نہیں بنتا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کو واحد سمجھتا ہے پھر دوسرے سے بھی تعلق رکھتا ہے تو توحید کہاں رہی؟ یا خدا تعالیٰ کو رازق مانتا ہے مگر کسی دوسرے پر بھی بھروسہ کرتا ہے یا دوسرے سے محبت کرتا ہے یا کسی سے امید اور خوف رکھتا ہے تو اس نے واحد کہاں مانا؟ غرض ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے سے توحید حقیقی متحقق ہوتی ہے مگر یہ اپنے اختیار میں نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ہستی پر کامل یقین سے پیدا ہوتی ہے۔یک طرفہ خیال رفتہ رفتہ ضائع ہو جایا کرتےہیں مثلاً ایک شخص خیال کرلے کہ اس چوبارہ کے اندر آدمی ہے۔جب وہ بیدار ہوگا تو اس کو کھولے گا لیکن جب اس پر دو دن، چار دن، مہینہ دو مہینے یہاں تک کہ کئی برس گذر جاویں اور کوئی آواز نہ آوے نہ کھڑکا ہو تو آخر اسے اپنا اعتقاد بدلنا پڑے گا اور خیال پیدا ہونے لگے گا کہ اگر اس کے اندر کوئی آدمی ہوتا تو ضرور بولتا معلوم ہوا کوئی آدمی ہے ہی نہیں۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ جو ان آنکھوں سے پوشیدہ ہے اس کی بابت بھی طالب حق چاہتا ہے کہ اس کا پورا پتہ لگے تاکہ ایمان ترقی کرے۔ضرور ہے کہ اس کی قدرتوں کے عجائبات نظر آویں۔اس کی آواز بھی سنائی دے اور اس کے سننے کا پتہ لگے لیکن اگر کسی بات کا پتہ ہی نہیں چلتا تو پھر رفتہ رفتہ ایمان کمزور ہو کر انسان دہریہ ہوجائے گا۔یہ تو سب اہل مذاہب مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے اور ہماری دعائیں سنتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ وہ جس طرح پر سنتا ہے کیا یہ ضرور نہیں کہ اسی طرح پر بولتا بھی ہو۔اگر بولتا نہیں تو پھر اس کا