ملفوظات (جلد 7) — Page 215
کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔سچے اولو الامر وہی ہیں جن کے اتباع سے معرفت کی آنکھ ملتی ہے اور انسان معصیت سے دور ہوتا ہے۔ان دونوں باتوں کا لحاظ اولو الامر میں رکھو۔اگر کوئی شخص بادشاہ وقت کی بغاوت کرے تو اس کا نتیجہ اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا کیونکہ اس سے فتنہ پیدا ہوگا اور اللہ تعالیٰ فتنہ کو پسند نہیں کرتا۔اسی طرح پر مامور کی مخالفت کرے تو سلب ایمان ہوجاتا ہے کیونکہ ان کی مخالفت سے لازم آتا ہے کہ مخالفت کرنے والا خدا کی مخالفت کرتا ہے۔سوال۔پھر اس وقت جو مولوی ہیں کیا ان کو اولو الامر سمجھیں؟ جواب۔او خویشتن گم است کرا رہبری کند۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کسی کی آنکھ نہ کھولے آنکھ کھلتی نہیں۔ان لوگوں نے دین صرف چند رسوم کا نام سمجھ رکھا ہے۔حالانکہ دین رسوم کا نام نہیں ہے۔ایک زمانہ وہ ہوتا ہے جبکہ یہ باتیں محض رسم اور عادت کے طور پر سمجھی جاتی ہیں یہ لوگ اسی قسم کے ہو رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جن کو نماز اور روزہ سکھایا گیا تھا ان کا اور مذاق تھا وہ حقیقت کو لیتے تھے اور اسی لیے جلد مستفیض ہوتے تھے پھر مدت کے بعد وہی نماز اور روزہ جو اعلیٰ درجہ کی طہارت اور خدا رسی کا ذریعہ تھا ایک رسم اور عادت سمجھا گیا۔پس اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اصل امر دین کو جو مغز ہے تلاش کرے۔سچے مذہب کی خصوصیات یاد رکھو انسان کو اللہ تعالیٰ نے تعبّد ابدی کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے اس کو چاہیے کہ اسی میں لگا رہے۔اس جہان کی جس قدر چیزیں ہیں۔بیوی، بچے، احباب، رشتہ دار، مال و دولت اور ہر قسم کے املاک ان کا تعلق اسی جہان تک ہے۔اس جہان کو چھوڑنے کے ساتھ ہی یہ سارے تعلقات قطع ہو جاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ ہے اور اس جہان میں بھی اور اُس جہان میں بھی اس کی ضرورت ہے اس لیے سچا تعلق اسی کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ نجات ابدی اسی کے ساتھ وابستہ ہے جو خدا تعالیٰ کی معرفت محبت اور صدق وفاداری کے تعلق پیدا کرنے سے ملتی ہے۔یہاں تک تو سب مذاہب متفق ہیں وہ نجات کا یہی ذریعہ سمجھتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ باتیں حاصل کیونکر ہوں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سے