ملفوظات (جلد 7) — Page 213
یقیناً سمجھو کہ یہ قوم ایک عجیب قوم ہوتی ہے۔لوگوں کے ھمّ غم اپنے گھر کے دائرہ کے اندر ہوتے ہیں۔بیوی بچوں کا غم ہوا یا اپنی عزت و دولت کے لیے اور اس لیے خدا تعالیٰ ان کی پروا نہیں کرتا لیکن اس قوم کے غموں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف مخلوق کی ہمدردی انہیں ھمّ و غم میں مبتلا کرتی ہے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان بلند کے لیے کڑھتے ہیں اور یہ بات تکلف یا بناوٹ سے پیدا نہیں ہوتی۔ان کی فطرت ہی اس قسم کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔اس قوم کو اس رنگ میں گویا آگ لگی ہوئی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتا کہ وہ غم میں مرجاویں۔وہ دیکھتا ہے کہ ان کا غم محض اس کے لیے ہے۔ان سے اگر پوچھا جاوے کہ وہ کیوں اس قدر غم کھاتے ہیں تو بتلا نہیں سکتے کیونکہ ان کے تعلقات ذاتیہ ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لیے وہ طبعی طور پر بے قرار ہوتے ہیں اور اس میں ان کے نفس کا کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا۔کامل نفوس کے تعلقات جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں وہ اس قسم کے ہیں کہ اگر بہشت و دوزخ بھی نہ ہو تب بھی وہ دور نہیں ہو سکتے۔غرض انسان اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے لیے کس کس قسم کے قلق و کرب میں رہتےہیں۔جب یہ اضطراب حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر آسمانی نشان ظاہر ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ بے پروا ہے۔اگر ساری دنیا اس کی حمد و ستائش کرے اور کوئی بھی اس کی خلاف ورزی نہ کرے تو اس کی شانِ ربوبیت اور الوہیت میں کچھ بھی زیادتی نہیں ہوسکتی اور نہ اس سے کوئی کمی واقع ہو سکتی ہے اگر سب کے سب فسق و فجور میں مبتلا ہو جائیں۔مگر بات یہ ہے کہ جب ایک انسان اس کے لیے ہی کھپتا ہے تو آخر اسے اپنی مستور ذات کو ظاہر کرنا پڑتا ہے۔یہی سِر ہے اس حدیث میں کُنْتُ کَنْـزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کا قلق کرب حد سے بڑھتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے مجاہدات کا اتنا ہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں بلکہ دنیا پر بھی احسان کر جاتے ہیں کیونکہ اسے بھی دکھا دیتے ہیں۔