ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 198

اللہ تعالیٰ ہی دنیا کی اصلاح فرما سکتا ہے ہماری کوششیں تو بچوں کا کھیل ہے نہ لوگوں کے دلوں سے ہم وہ گند نکال سکتے ہیں جو آجکل دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے نہ کمال محبت الٰہی کا ان کے اندر بھر سکتے ہیں۔نہ ان کے درمیان باہمی کمالِ اُلفت پیدا کر سکتے ہیں جس سے وہ سب مثل ایک وجود کے ہو جائیں یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں صحابہؓ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے۔هُوَ الَّذِيْۤ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ اِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ(الانفال:۶۳،۶۴) وہ خدا جس نے اپنی نصرت سے اور مومنوں سے تیری تائید کی اور ان کے دلوں میں ایسی اُلفت ڈالی کہ اگر تو ساری زمین کے ذخیرے خرچ کرتا تو بھی ایسی اُلفت پیدا نہ کر سکتا لیکن خدا نے ان میں یہ اُلفت پیدا کر دی۔وہ غالب اور حکمتوں والا خدا ہے۔جس خدا نے پہلے یہ کام کیا وہ اب بھی کر سکتا ہے۔آئندہ بھی اسی پر توکل ہے جو کام ہونے والا ہوتا ہے اس میں خدا کے فضل کی روح پھونکی جاتی ہے جیسا کہ باغبان اپنے باغ کی آبپاشی کرتا ہے تو وہ ترو تازہ ہوتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنے مرسلین کے سلسلہ کو ترقی اور تازگی عطا فرماتا ہے۔جو فرقے صرف اپنی تدبیر سے بنتے ہیں ان کے درمیان چند روز میں ہی تفرقے پیدا ہوجاتے ہیں جیسا کہ برہمو تھوڑے دن تک ترقی کرتے کرتے آخر رک گئے اور دن بدن نابود ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بنا صرف انسانی خیال پر ہے۔ہماری جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔کوئی انسانی عقل یا دوراندیشی یا دنیوی اسباب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پہنچا سکتے۔۱ اللہ تعالیٰ خود ہی سب اسباب مہیا کر دے گا