ملفوظات (جلد 7) — Page 199
تب یہ کام انجام کو پہنچے گا۔اگر بالفرض ہماری جماعت کی تعداد بیس پچیس لاکھ تک پہنچ کر ٹھہر جائے تو پھر بھی کیا ہے کچھ بھی نہیں۔اتنی تعداد تو سکھوں کی بھی ہے۔ہم تو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اس جماعت سے بھر جائے اور یہ انسان کا کام نہیں۔انسان کی زندگی کا تو ایک دم کا اعتبار نہیں وہ کیا کرسکتا ہے؟ نبی کا بڑا معجزہ لیکن خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔در اصل بڑا معجزہ یہی ہے کہ فرستادہ کی علّتِ غائی باطل نہ ہو جاوے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدہا معجزات ہیں لیکن سب سے بڑا یہی ہے کہ جس بات کا دعویٰ کیا تھا اس کو پورا کر دکھایا۔طبیب حاذق اسی طرح پہچانا جاتا ہے کہ بڑے بڑے بیمار اس سے شفا پائیں تب ہی اس کا دعویٰ سچا ثابت ہو۔۱ صحابہ کرام کی مثالی وفاداری حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قوم عرب کے تمدن اور اخلاق اور روحانیت کا کیا حال تھا؟ گھر گھر میں جنگ اور شراب نوشی اور زنا اور لوٹ مار۔غرض ہر ایک بدی موجود تھی۔کوئی نسبت اور تعلق خدا کے ساتھ اور اخلاق فاضلہ کے ساتھ کسی کو حاصل نہ تھا ہر ایک فرعون بنا پھرتا تھا لیکن آنحضرت کے آنے سے جب اسلام میں داخل ہوئے تو ایسی محبت الٰہی اور وحدت کی روح ان میں پیدا ہوگئی کہ ہرایک خدا کی راہ میں مرنے کے لیے طیار ہوگیا۔۲ انہوں نے بیعت کی حقیقت کو ظاہر کر دیا اور اپنے عمل سے اس کا نمونہ دکھا دیا۔اب تو بعض لوگ بیعت میں داخل ہوتے ہیں تو ذرا سے ابتلا سے